Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سفارت کاری میں پردے کے پیچھے کیا ہوتا ہے؟ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی زبانی

نیٹلی بیکر کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی پاکستان میں بہترین کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ (امریکی سفارت خانہ، اسلام آباد)
پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ایک طویل شراکت داری پر مبنی ہیں جو مشترکہ مفادات، باہمی احترام اور عوامی روابط سے مضبوط ہوتی ہے۔
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں نیٹلی بیکر نے پاکستان میں اپنے تجربات اور سفارتی ذمہ داریوں کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ان کی سب سے بڑی پیشہ ورانہ کامیابی دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا ہے، جس کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملی۔
مستقبل کے اہداف کے بارے میں بات کرتے ہوئے نیٹلی بیکر نے کہا کہ وہ نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنا چاہتی ہیں، خصوصاً تعلیم کے شعبے میں۔ ان کے مطابق پاکستان میں قائم کی جانے والی نئی امریکی تعلیمی فاؤنڈیشن بھی اسی مقصد کا حصہ ہے۔
سفارت کاری کے بارے میں عام تاثر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ سفارت کاری صرف پالیسی اور پروٹوکول تک محدود ہوتی ہے تاہم حقیقت میں اس کا بنیادی مقصد معاشروں اور لوگوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
نیٹلی بیکر نے بتایا کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ توازن برقرار رکھنے میں ان کی ٹیم اہم کردار ادا کرتی ہے جبکہ وہ ٹینس، گالف اور کھانا پکانے جیسے مشاغل کے لیے بھی وقت نکالنے کی کوشش کرتی ہیں۔
پاکستان میں اپنی خواہشات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ شمالی علاقوں کا دورہ کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافت کو قریب سے دیکھ سکیں۔ اس کے علاوہ وہ ملک میں موجود ٹیکنالوجی اور معدنیات کے شعبوں سے متعلق منصوبوں کا بھی مشاہدہ کرنا چاہتی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں نیٹلی بیکر نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکی ٹیکنالوجی پاکستان میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے اور یہاں ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

شیئر: