Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اوپیک نے تیل کا کوٹہ نہ بڑھایا تو عراق تمام آپشنز پر غور کرے گا، تنظیم چھوڑنے کا امکان بھی زیر غور: ذرائع

اوپیک پلس تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اس کے اتحادی تیل پیدا کرنے والے ممالک پر مشتمل ہے، جن میں روس بھی شامل ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)
 ایک سینئر عراقی وزارتِ تیل کے عہدیدار نے جمعرات کو روئٹرز کو بتایا کہ اگر عراق کے لیے اوپیککا پیداواری کوٹہ نمایاں طور پر نہیں بڑھایا گیا تو ملک اپنے لیے دستیاب تمام ممکنہ آپشنز پر غور کرنے پر مجبور ہوگا۔
ایک اور ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ عراقی حکام نے اوپیک سے علیحدگی کے امکان پر بھی غور کیا تھا، تاہم موجودہ منصوبہ تنظیم کی رکنیت برقرار رکھنے اور زیادہ کوٹے کے حصول کی کوشش کرنے کا ہے۔
عراق کی جانب سے اوپیک چھوڑنے پر غور کیے جانے کا امکان تنظیم کے لیے ایک اور دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً رواں سال متحدہ عرب امارات کے انخلا کے بعد۔ عراق اوپیک کے پانچ بانی اراکین میں سے ایک ہے، اور اس تنظیم کا قیام بھی عراقی دارالحکومت بغداد میں عمل میں آیا تھا۔
اوپیک نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
عراق کے ایک سرکاری ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران جنگ کے اثرات کے باعث عراق شدید مالی بحران کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے اوپیک میں اس کے پیداواری کوٹے میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہے اور اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
اوپیک پلس  تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادی تیل پیدا کرنے والے ممالک پر مشتمل ہے، جن میں روس بھی شامل ہے۔

شیئر: