Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ورلڈ کپ میں بحث کے دوران منہ ڈھانپنے پر بھی ریڈ کارڈ، فیفا کا یہ نیا قانون کیا ہے؟

ورلڈ کپ میں اب حریف کھلاڑی سے بحث کے دوران منہ ڈھانپنا بھی ریڈ کارڈ کا سبب بن سکتا ہے۔(فوٹو:اے پی)
فیفا ورلڈ کپ میں اب حریف کھلاڑی سے بحث کے دوران منہ ڈھانپنا بھی ریڈ کارڈ کا سبب بن سکتا ہے۔ فیفا نے ٹورنامنٹ سے پہلے ہی تمام ٹیموں کو اس نئے قانون سے آگاہ کر دیا تھا اور اب میچ آفیشلز اس پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس قانون کے تحت تازہ ترین کارروائی منگل کو ایکواڈور اور میکسیکو کے درمیان راؤنڈ آف 32 کے میچ میں دیکھنے میں آئی، جہاں ایکواڈور کے مدافع پیرو ہنکاپیے کو دوسرے ہاف کے اضافی وقت میں ریڈ کارڈ دکھا دیا گیا۔
ہنکاپیے کو میکسیکو کے فارورڈ سانتیاگو خیمینیز سے بحث کے دوران منہ ڈھانپنے پر میدان سے باہر بھیجا گیا۔
اگرچہ اس فیصلے سے میچ کے نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑا کیونکہ چند لمحوں بعد میچ ختم ہو گیا، تاہم اس نے نئے قانون پر توجہ ضرور مبذول کرا دی۔

فیفا نے یہ نیا قانون کیوں متعارف کرایا؟

فیفا کے مطابق یہ قانون اس لیے متعارف کرایا گیا تاکہ کھلاڑی گالم گلوچ، نسل پرستانہ یا توہین آمیز الفاظ کہنے کے بعد منہ ڈھانپ کر انہیں مخفی نہ رکھ سکیں۔
اس قانون کو غیررسمی طور پر ’پریستیانی قانون‘ بھی کہا جا رہا ہے۔
یہ تبدیلی رواں سال بین الاقوامی فٹبال میں پیش آنے والے ایک تنازع کے بعد سامنے آئی۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اس وقت قوانین میں تبدیلی کی حمایت کی جب بینفیکا کے ونگر جیانلوکا پریستیانی پر الزام لگا کہ انہوں نے ریال میڈرڈ کے برازیلی فارورڈ وینیسیئس جونیئر کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی جرسی سے منہ ڈھانپ لیا تاکہ ہونٹوں کی حرکت سے ان کے الفاظ کا اندازہ نہ لگایا جا سکے۔

اگرچہ یہ قانون فٹبال کے بنیادی قوانین کا لازمی حصہ نہیں، تاہم منتظمین کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر اسے نافذ کریں۔(فوٹو:اے پی)

اس واقعے کے بعد فٹبال کے قوانین بنانے والے ادارے انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی) نے فیصلہ کیا کہ اگر کوئی کھلاڑی کسی حریف سے بحث کے دوران جان بوجھ کر اپنا منہ ڈھانپے تو اسے ریڈ کارڈ دیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ یہ قانون فٹبال کے بنیادی قوانین کا لازمی حصہ نہیں بنایا گیا، تاہم فیفا جیسے ٹورنامنٹ منتظمین کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر اسے نافذ کریں۔
آئی ایف اے بی، جس میں فیفا اور برطانیہ کی چاروں فٹبال ایسوسی ایشنز کے نمائندے شامل ہیں، نے فیفا کانگریس سے قبل ہونے والے خصوصی اجلاس میں اس تجویز کی متفقہ منظوری دی۔

اس قانون کے تحت ریڈ کارڈ پانے والے پہلے کھلاڑی کون تھے؟

پیرو ہنکاپیے اس قانون کے تحت ریڈ کارڈ پانے والے پہلے کھلاڑی نہیں ہیں۔
اس سے قبل پیراگوئے کے مڈفیلڈر میگوئل المیرون کو ترکی کے خلاف گروپ مرحلے کے میچ میں مدافع میرت مولڈر سے بحث کے دوران منہ ڈھانپنے پر ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔
اگرچہ پیراگوئے نے وہ میچ ایک صفر سے جیت لیا، تاہم المیرون اگلا گروپ میچ نہیں کھیل سکے۔ فیفا نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔

ورلڈ کپ میں ریڈ کارڈ ملنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟

ورلڈ کپ میں اگر کسی کھلاڑی کو ریڈ کارڈ دکھایا جائے تو اسے فوری طور پر میدان چھوڑنا پڑتا ہے اور اگلے میچ میں ایک میچ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ریڈ کارڈ ملنے کے بعد متعلقہ ٹیم باقی میچ صرف 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتی ہے، جس سے ٹیم کو عددی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اگلے میچ میں معطل کھلاڑی کے علاوہ باقی تمام 11 کھلاڑی میدان میں اتر سکتے ہیں۔
 

شیئر: