Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیفا ورلڈ کپ 2026: جب برازیل کے فٹبالرز نے جشن سے پہلے جاپانی پلیئرز کو گلے لگایا

فائنل سیٹی بجتے ہی برازیل کے کھلاڑی جشن منانے کے بجائے جاپانی فٹبالرز کی طرف بڑھے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
برازیل نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں جاپان کو آخری لمحات میں شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی، لیکن میچ ختم ہونے کے بعد جو منظر سامنے آیا اس نے نتیجے سے زیادہ سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی۔
فائنل سیٹی بجتے ہی برازیل کے کھلاڑی جشن منانے کے بجائے جاپانی فٹبالرز کی طرف بڑھے۔ نیمار، ماتھیوس کونیا اور دیگر کھلاڑیوں نے شکست کے باعث آبدیدہ جاپانی کھلاڑیوں کو گلے لگایا، ان کی حوصلہ افزائی کی اور میدان میں ہی انہیں تسلی دیتے رہے۔
یہ منظر چند ہی منٹوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور دنیا بھر کے صارفین نے اسے کھیل کی اصل روح اور سپورٹس مین شپ کی مثال قرار دیا۔
امریکی نشریاتی ادارے اور کھیلوں کی ویب سائٹس کے مطابق برازیل نے میچ کے آخری لمحات میں فیصلہ کن گول کیا، جس کے بعد جاپانی کھلاڑی میدان میں ہی غم سے نڈھال ہوگئے۔ ایسے میں برازیل کے کھلاڑی جشن میں مصروف ہونے کے بجائے اپنے حریف کے پاس پہنچے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نیمار اور ماتھیوس کونیا جاپانی کھلاڑی آؤ تاناکا سمیت دیگر فٹبالرز کو تسلی دے رہے ہیں، جبکہ کئی جاپانی کھلاڑی آنسو پونچھتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ ویڈیو مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں بار دیکھی گئی اور ہزاروں صارفین نے اسے شیئر کیا۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر پیڈرو رونکی نے اس منظر کو ’ناقابلِ یقین لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ برازیلی کھلاڑیوں نے جاپانی فٹبالرز کی حوصلہ افزائی کر کے سب کے دل جیت لیے۔
ایکس پر ایک صارف عندلیب نے لکھا ہے، ’فائنل سیٹی کے بعد کا یہ خوبصورت منظر ثابت کرتا ہے کہ فتح جتنی اہم ہے، احترام بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ یہی حقیقی سپورٹس مین شپ ہے۔‘

برازیلین صحافی جوزے رامون فرنانڈیز نے ایکس پر لکھا کہ برازیلی کھلاڑی جشن منانے کے لیے نہیں دوڑے بلکہ پہلے جاپانی کھلاڑیوں کو گلے لگایا۔ 
ان کے بقول، ’یہ فتح جتنی اہم تھی، اتنا ہی اہم مخالف ٹیم کی محنت اور درد کا احترام بھی تھا۔‘

ٹیک بلاگر گیتا نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’ورلڈ کپ جیسے دباؤ والے میچ میں نیمار اور کونیا نے جشن سے پہلے احترام اور ہمدردی کا انتخاب کیا۔ جاپان نے یہ عزت کمائی تھی، اسی لیے ہم فٹبال سے محبت کرتے ہیں۔‘

شنگھائی ڈیلی نے بھی اس لمحے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’برازیل کے آخری لمحے کے فاتحانہ گول کے بعد نیمار روتے ہوئے جاپانی کھلاڑیوں کو تسلی دینے پہنچے۔‘
ایک اور صارف تنموئے نے اسے ’سپورٹس مین شپ کی شاندار مثال‘ قرار دیا، جبکہ کئی دوسرے صارفین نے لکھا کہ میچ کا سب سے یادگار لمحہ گول نہیں بلکہ برازیلی کھلاڑیوں کا رویہ تھا۔
اس واقعے نے ایک بار پھر جاپان کی کھیلوں میں شائستگی کی روایت کی بھی یاد تازہ کر دی۔ 
ماضی میں جاپانی شائقین میچ ختم ہونے کے بعد اسٹیڈیم کی صفائی کرنے اور جاپانی کھلاڑی شکست کے باوجود ڈریسنگ روم صاف چھوڑنے پر دنیا بھر میں تعریف حاصل کر چکے ہیں۔

شیئر: