کشمیر میں احتجاج کا دوسرا ہفتہ، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 148 سرگرم ارکان ’فورتھ شیڈول‘ میں شامل
جمعرات 18 جون 2026 22:47
فرحان احمد خان۔ اردو نیوز، مظفرآباد
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی حکومت نے حال ہی میں کالعدم قرار دی گئے گروپ ’جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے خلاف سخت اقدامات کی کڑی کے طور پر کئی رہنماؤں کے نام شیڈول فور میں شامل کر دیے ہیں۔
کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ نوٹیفیکیشنز کے مطابق ایکشن کمیٹی کے 148 متحرک کارکنوں اور رہنماؤں کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت ’فورتھ شیڈول‘ (واچ لسٹ) میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ’یہ فیصلہ صدرِ ریاست نے سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے موصول ہونے والی سفارشات اور کابینہ کے 41 ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں کیا ہے۔‘
اس فہرست میں احتجاجی تحریک کے کئی ایسے نمایاں چہرے اور سرگرم رہنما شامل ہیں جو حالیہ مہینوں کے دوران عوامی احتجاج، لانگ مارچ اور حکومت مخالف مظاہروں کی قیادت کرتے رہے ہیں۔
راولاکوٹ (پُونچھ): یہاں سے سب سے زیادہ 36 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں تحریک کے مرکزی اور عوامی حقوق کے سرگرم کارکن عمر نذیر کشمیری، پُونچھ بار کے فعال وکیل ارباب ایڈووکیٹ اور ذوالفقار عرف بھٹو شامل ہیں۔
مظفرآباد: دارالحکومت سے انجمنِ تاجران کے معروف رہنما اور ایکشن کمیٹی کے سب سے نمایاں چہرے شوکت نواز میر کا نام فہرست میں سرِفہرست ہے، جن کے ساتھ راجا امجد علی خان اور انجم زمان اعوان بھی نامزد ہوئے ہیں۔
سِدھنوتی: اس ضلع سے 31 افراد کو واچ لسٹ پر ڈالا گیا ہے جن میں تحریک کے متحرک رہنما سردار امان خان کا نام خاص طور پر شامل ہے۔
میرپور: میرپور سے وکلا برادری کے سرگرم رہنما جن میں سعد انصاری ایڈووکیٹ، راجا دانش ایڈووکیٹ، اور خاتون وکیل نازیہ شاہ ایڈووکیٹ کے علاوہ راجا ناظم کشمیری شامل ہیں۔
کوٹلی اور بھمبر: کوٹلی سے محمد قاسم کامریڈ اور حبیب کمانڈو، جبکہ بھمبر سے سجاد احمد پوٹھی اور عقیل کشمیری کو نامزد کیا گیا ہے۔
باغ: ضلع باغ سے ایکشن کمیٹی کے نمایاں عہدیدار سردار عابد شاہین اور سردار افتخار زمان فورتھ شیڈول کا حصہ بنے ہیں۔
حکومت نے جے کے جے اے اے سی کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس کے چار مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر، سردار امان خان اور خواجہ مہران کی گرفتاری میں مدد دینے یا انہیں گرفتار کروانے پر ایک ایک کروڑ روپے کے انعام کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔
فورتھ شیڈول کا قانونی مطلب کیا ہے؟
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997کے تحت کسی بھی شہری کا نام ’فورتھ شیڈول‘ میں شامل کرنا ایک انتہائی سخت قانونی قدغن ہے جو فرد کی آئینی آزادیوں کو شدید محدود کر دیتی ہے۔
محکمہ داخلہ یہ قدم سکیورٹی اداروں کی ان ٹھوس رپورٹس پر اٹھاتا ہے جن کے مطابق مذکورہ شخص کسی کالعدم تنظیم کا متحرک رکن یا حامی ہو یا اُس کی سرگرمیاں امن و امان اور ملکی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن رہی ہوں۔
اس قانون کے اطلاق کے بعد نامزد فرد کی کڑی نگرانی شروع کر دی جاتی ہے، اس کا پاسپورٹ ضبط کر کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی لگا دی جاتی ہے اور وہ پولیس کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اپنا ضلع یا رہائشی علاقہ نہیں چھوڑ سکتا۔
اس کے ساتھ ہی اسے مقامی تھانے میں باقاعدگی سے حاضری دینا ہوتی ہے جبکہ اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، فون کالز اور عوامی سرگرمیوں کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔
اس معاشی اور دفاعی ناکہ بندی کے تحت سٹیٹ بینک کے قوانین کے مطابق متاثرہ شخص کے تمام ذاتی و کاروباری بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جاتے ہیں۔
شیڈول فور میں شامل شخص کسی مالیاتی لین دین، جائیداد کی منتقلی یا بینک لون کا اہل نہیں رہتا اور اس کے تمام اسلحہ لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیے جاتے ہیں۔
تاہم قانون نامزد فرد کو اس فیصلے کے خلاف پہلے محکمہ داخلہ میں نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرنے اور بعد ازاں ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن کے ذریعے اسے چیلنج کرنے کا حق دیتا ہے۔
دو ہفتوں سے جاری پہیہ جام اور کرفیو
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں حالیہ بحران اس وقت سنگین ہوا جب دو ہفتے قبل حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا گیا۔
مئی کے اواخر میں حکومت سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کمیٹی نے نو جون کو تمام اضلاع سے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب احتجاج اور لانگ مارچ کی کال برقرار رکھی تھی۔
اس دوران راولاکوٹ میں ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما کی ہلاکت کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے جس پر حکام نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا جو اب تک برقرار ہے۔
دوسری جانب لانگ مارچ میں شریک مظاہرین گذشتہ نو روز سے راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک کے عیدگاہ گراؤنڈ اور متیالمیرہ بس ٹرمینل سمیت چار سے پانچ مختلف مقامات پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
حکومت نے ماضی میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں ارکان اور حامیوں کے خلاف مقدمات ختم کرنے کے جو نوٹیفیکیشنز جاری کیے تھے، وہ بھی اب واپس لے لیے ہیں اور حالیہ جھڑپوں کے تناظر میں مزید نئے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
انسانی بحران اور جانی نقصان
حکام اور مقامی ہسپتالوں سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق گذشتہ دنوں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں اب تک 20 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم سے کم چار سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زخمیوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر چکی ہے۔
گذشتہ دو ہفتوں سے کشمیر کے تمام اضلاع میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل ہے جبکہ موبائل فون سروس صرف جُزوی طور پر کام کر رہی ہے۔
دکانیں اور بازار بند ہونے کے باعث شہریوں کو کھانے پینے کی اشیاء کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
دارالحکومت مظفرآباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور تمام بینک بھی بند ہیں۔ نقد رقم (کیش) نکالنے کے لیے شہریوں کو مجبوراً خیبر پختونخوا کے قریبی شہر گڑھی حبیب اللہ کا رُخ کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کو کشمیر سے ملانے والے تمام راستے اور انٹری پوائنٹس تکنیکی طور پر کھلے تو ہیں لیکن لاک ڈاؤن کے باعث اِن پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔
مذاکرات کی کوششیں اور موجودہ ڈیڈلاک
کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے تین دن قبل اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ مظاہرین پہلے دھرنے اور لاک ڈاؤن کو فوری طور پر ختم کریں، جس کے بعد ہی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی کوئی بات کی جا سکے گی۔
دوسری جانب ڈیڈلاک کو توڑنے کے لیے پس پردہ کوششیں بھی جاری ہیں۔
16 سے 18 جون کے درمیان وکلاء، مذہبی علماء اور سماجی شخصیات سمیت مختلف وفود نے راولاکوٹ دھرنے کی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔
ان وفود کے ذریعے مظاہرین کی قیادت اور حکومتی حلقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، تاہم فورتھ شیڈول کی اس نئی لسٹ اور گرفتاریوں کے بعد حالات کے پُرامن حل کی راہ میں مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
