Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہنگو چیک پوسٹ پر حملے میں 9 پولیس اہلکار جان سے گئے، 15 شدت پسند ہلاک

جمعے کو بھی خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم شدت پسندوں نے ایک اور چیک پوسٹ پر حملہ کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ایک چیک پوسٹ پر مسلح حملہ آوروں نے حملہ کر کے نو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا، جبکہ جوابی کارروائی میں 15 حملہ آور بھی مارے گئے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بدھ کو خیبر پختونخوا پولیس نے کہا کہ حملے میں نو پولیس اہلکار جان سے گئے اور 26 زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 15 شدت پسندوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا۔
پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ایک بکتر بند گاڑی اور کئی دیگر پولیس کی گاڑیاں بھی جھڑپ کے دوران بری طرح نقصان کا شکار ہوئیں۔‘
تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
جمعے کو بھی خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم شدت پسندوں نے ایک اور چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
جمعے کے حملے میں شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی کو سکیورٹی چیک پوسٹ سے ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں 15 افراد جان سے گئے، جن میں فوجی، پولیس اہلکار اور سرکاری عملہ شامل تھا۔
فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 12 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔
پاکستان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتے ہوئے حملوں کا الزام افغانستان سے آنے والی شدت پسندی پر لگایا ہے، تاہم افغان طالبان حکومت افغان مداخلت کی تردید کرتی ہے۔
یہ الزامات دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان شدید تنازع اور مسلح جھڑپوں کا باعث بنے ہیں، اور پاکستان نے افغانستان کی سرزمین پر فضائی حملے کیے ہیں جنہیں وہ شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے طور پر بیان کرتا ہے۔
طالبان حکومت اور اقوامِ متحدہ نے کہا کہ جون میں مشرقی افغانستان پر تازہ پاکستانی حملوں میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے۔

 

شیئر: