Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پشاور: قبروں کی بے حُرمتی کے مقدمے میں زیرِحراست ملزم ’پولیس پر فائرنگ کے دوران‘ ہلاک

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قبروں کی مبینہ بے حُرمتی کے مقدمے میں زیرِ حراست ملزم اس وقت ہلاک ہو گیا جب پولیس کے مطابق شیخان قبرستان میں جائے وقوعہ کی نشان دہی کے لیے لے جانے والی پولیس ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔
پولیس کے مطابق واقعہ منگل کو تھانہ بڈھ بیر کی حدود میں پیش آیا جہاں ملزم سلمان ولد افغان کو شیخان قبرستان لے جایا جا رہا تھا۔ 
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران تین موٹر سائیکلوں پر سوار چھ مسلح افراد نے پولیس ٹیم پر اچانک فائرنگ کی۔ 
پولیس کے مطابق فائرنگ سے سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچا جبکہ ایک پولیس اہلکار کی بُلٹ پروف جیکٹ بھی متاثر ہوئی۔ 
’فائرنگ کی زد میں آکر زیرِ حراست ملزم سلمان شدید زخمی ہوا۔ ملزم کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔‘
پولیس حکام نے مزید بتایا کہ ’حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور اُن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔‘
یاد رہے کہ ملزم کو پشاور پولیس نے ایک روز قبل شیخان نامی قبرستان سے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ’مقامی افراد نے ملزم کو ایک قبر کھود کر مبینہ طور پر ایک بچی کی نعش نکالتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔‘
ایس پی صدر ڈویژن فدا حسین نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’گرفتار شخص کی عمر 19 سال ہے اور وہ افغان شہری ہے جو پشاور کے علاقے باڑہ قدیم میں رہائش پذیر ہے۔‘ پولیس حکام کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا تھا کہ ’گرفتار شخص نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ اس سے پہلے بھی قبریں کھود چکا ہے۔‘
ایس پی فدا حسین نے بتایا کہ ’ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملزم مبینہ طور پر صرف بچیوں کی قبروں کو نشانہ بناتا تھا اور نعش نکال کر اسے قبرستان کے قریب کسی جھاڑیوں والے مقام پر لے جاتا تھا۔‘
پیر کو پولیس کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات میں بتایا گیا تھا کہ ’ملزم نے اس سے قبل چار قبریں کھودنے اور بچیوں کی لاشیں نکالنے کا اعتراف کیا‘، البتہ منگل کو پولیس کے تازہ بیان میں کہا گیا کہ ملزم نے 10 قبروں کی بے حُرمتی کا اعتراف کیا تھا۔‘

شیئر: