Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی تعاون سے عدن میں تعمیرِ نو اور عوامی خدمات کے منصوبوں میں تیزی

پہلے مرحلے میں روزانہ تقریباً 10 ہزار کیوبک میٹر پینے کا پانی تیار ہوگا (فوٹو: ہیومن رائٹس واچ)
یمن کے عبوری دارالحکومت عدن کی مقامی انتظامیہ جنگ کی وجہ سے تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور متاثرہ عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے سعودی عرب کی مدد سے جاری ترقیاتی منصوبوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
الشرق الاوسط کے مطابق منصوبوں میں پانی، تعلیم، کھیل اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے ساتھ ساتھ 2015 میں حوثیوں کے شہر پر قبضے کے دوران تباہ ہونے والے مکانات کی مرمت کا دوسرا مرحلہ شامل ہے۔
عدن کے گورنر عبدالرحمن شیخ نے سعودی ڈیویلمپنٹ اینڈ ری کنسٹرکشن پروگرام فار یمن (ایس ڈی آر پی وائے) کے مقامی آفس کے ڈائریکٹر احمد مدخلی سے ان منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کی ملاقات کا بنیادی مقصد رہائشی مکانات کی بحالی کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں اور پہلے سے جاری یا جلد شروع ہونے والے ترقیاتی اور کھیل کے منصوبے تھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے جمعے کو سعودی فنڈ سے چلنے والے منصوبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور بنیادی سہولیات کی بہتری اور بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سٹریٹیجک منصوبوں پر مزید تعاون بڑھانے پر بات چیت کی۔
جائزہ لیے گئے منصوبوں میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا پلانٹ، سپورٹس کلبوں کے میدانوں کی بحالی و تزئینِ نو اور عدن کے مختلف اضلاع میں سکولوں کی مرمت شامل تھی۔ اس کے علاوہ جنگ سے متاثرہ مکانات کی مرمت کے اگلے مرحلے کے لیے حتمی تیاریوں پر بھی غور کیا گیا۔
سعودی نمائندوں نے بتایا کہ ’برج روڈ‘ کے نام سے معروف ساحلی سڑک کی بحالی ان کے آنے والے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہے، جو خور مکسر اور المنصورہ کے اضلاع کو آپس میں ملاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی مراحل کی تکمیل اور پروجیکٹ کے ٹینڈر جاری ہونے کے بعد کام باقاعدہ شروع کر دیا جائے گا۔
گورنر شیخ نے عدن کا انویسٹمنٹ پروگرام بھی پیش کیا جس میں ترجیحی ترقیاتی اور خدماتی منصوبوں کا ایک جامع پیکج شامل ہے۔ انہوں نے سعودی پروگرام کے ساتھ وسیع تر شراکت داری کی اپیل کی تاکہ سٹریٹیجک منصوبوں کی تکمیل، عوامی خدمات کی بہتری اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔ گورنر نے بحالی کے پروگرام کے ذریعے سعودی عرب کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے عدن کی تعمیر نو اور شہریوں کے لیے سہولیات بہتر بنانے کی مقامی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہیں.

حکام نے پلانٹ کی جلد مکمل فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا (حکومتی میڈیا)

میڈیکل سٹی اور پانی کی پائیدار فراہمی
گورنر شیخ نے عدن میں ایک جامع ’میڈیکل سٹی‘ کے قیام کے لیے اپنے مطالبے کو دہرایا۔ انہوں نے اس پروجیکٹ کو ایک سٹریٹیجک ترجیح قرار دیا جو عدن اور پڑوسی صوبوں کے رہائشیوں کو علاج معالجے کی خصوصی سہولیات فراہم کرے گا، جس سے موجودہ ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوگا اور طبی دیکھ بھال کے معیار میں اضافہ ہوگا۔
مقامی حکام نے ایس ڈی آر پی وائے کے تعاون سے یمن کے سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پہلے پلانٹ کی تعمیر کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس پروجیکٹ کا مقصد پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں اضافہ کرنا اور عدن میں پانی کے بحران کو ختم کرنا ہے۔
عدن کی لوکل واٹر اینڈ سینی ٹیشن کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد باخبیرہ اور البرائقہ ڈسٹرکٹ کے ڈائریکٹر جنرل احمد علی الداودی نے الحسوہ پاور سٹیشن کے پیچھے تجویز کردہ جگہ کا معائنہ کیا اور پروجیکٹ کی تکنیکی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
پروجیکٹ حکام کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں روزانہ تقریباً 10 ہزار کیوبک میٹر پینے کا پانی تیار ہوگا اور اس پروجیکٹ پر عملدرآمد سعودی عِمار کنسٹرکشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کمپنی کرے گی۔

دونوں فریقین نے جمعے کو سعودی فنڈ سے چلنے والے منصوبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا (فوٹو: لوکل میڈیا)

بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے بنیادی ڈھانچہ
دونوں مقامی حکام کے مطابق یہ پلانٹ جدید ترین ٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے پینے کے پانی کی فراہمی بڑھائے گا اور پانی کی موجودہ قلت کا مسئلہ حل کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروجیکٹ سے واٹر ڈی سیلینیشن کے شعبے میں مقامی کارکنوں کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
حکام نے پلانٹ کی جلد مکمل فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور اسے واٹر سکیورٹی مضبوط بنانے اور شہریوں کی روزمرہ زندگی کے لیے ضروری خدمات کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ عدن میں سعودی عرب کے تعاون سے جاری منصوبے آبادکاری اور ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے اور خدمات، خاص طور پر پانی، تعلیم، سڑکوں اور صحت کے شعبوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تمام اقدامات عوامی سہولیات کو بہتر بنانے اور شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

 

شیئر: