Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اصل سوال یہ نہیں کہ ایلون مسک قارون ہیں یا کیسینڈرا؟

مسک کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل اور فزیکل یعنی جسمانی دونوں طرح کے کام اے آئی اور روبوٹس سنبھال لیں گے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی ریاست ٹیکساس میں ٹیسلا کاروں کی ایک بہت بڑی فیکٹری ہے جسے گیگا فیکٹری کہتے ہیں۔ جولائی کے تیسرے ہفتے وہاں دنیا کے امیر ترین آدمی اور ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے ایک ’ایکسکلیوسیو انٹرویو‘ دیا۔
دنیا کے بہت اہم میگزین ’اکانومسٹ‘ کو یہ انٹرویو دیا گیا۔ اکانومسٹ کی ایڈیٹر انچیف برطانوی صحافی زینی منٹن بیڈوز نے یہ انٹرویو لیا۔ زینی بیڈوز اکانومسٹ کی 180 سالہ تاریخ کی پہلی خٰاتون ایڈیٹر ہیں۔
ایلون مسک کا انٹرویو ڈیڑھ گھنٹے تک چلا۔ پچھلے ہفتے یہ تہلکہ خیز انٹرویو نشر ہوا، اکانومسٹ کے پچھلے شمارے کی ٹائٹل سٹوری بھی یہی تھی اور گذشتہ سات آٹھ دنوں سے دنیا بھر میں یہ ڈسکس ہو رہا ہے۔
انٹرویو کا موضوع مصنوعی ذہانت (اے آئی ) تھی، مستقبل تھا، دولت تھی۔ دی اکانومسٹ نے اس انٹرویو کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ایلون مسک کو جدید دور کی کیسینڈرا لکھا۔ اس کی سرخی کا اردو ترجمہ یہی بنتا ہے قارون یا کیسینڈرا۔
خود مسک نے بھی انٹرویو کے آخری حصے میں اپنے لیے کیسینڈرا ایفیکٹ کی اصطلاح برتی۔ نیٹ پر سرچ کرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ ہمارے ہاں یہ لفظ کم لوگ جانتے ہیں۔ چلیں پہلے یہ قصہ سن لیں، پھر آگے بڑھتے ہیں۔

کیسینڈرا کون تھی؟

یہ ایک یونانی دیو مالائی کردار ہے۔ قدیم شہر ٹرائے کے بادشاہ پرائم کی بیٹی۔ ہومر نے اپنی شہرہ آفاق نظم ایلیڈ میں اسے بادشاہ پرائم کی سب سے ٰخوبصورت بیٹی لکھا ہے۔
کیسینڈرا کی کہانی یوں ہے کہ دیوتا اپالو اس کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور محبت پانے کے لیے اسے مستقبل دیکھنے کی صلاحیت تحفے میں دے دی۔ کیسینڈرا نے تحفہ تو لے لیا مگر اپالو کی محبت ٹھکرا دی۔ دیوتا آگ بگولہ ہوا۔ دیا ہوا تحفہ واپس لینا مگر یونانی دیوتاؤں کے بس میں نہیں تھا، سو اس نے بددعا دے ڈالی کہ تم مستقبل بالکل ٹھیک دیکھو گی، تمہاری بات پر مگر کوئی یقین نہیں کرے گا۔
داستانوں کے مطابق اس کے بعد کیسینڈرا کی زندگی عذاب بن گئی۔ آنے والی ہر آفت، ہر تباہی اسے پہلے سے نظر آ جاتی، جب لوگوں کو خبردار کرتی تو سب اسے پاگل اور وہمی سمجھ کر ہنس دیتے۔ سب سے مشہور واقعہ ٹروجن ہارس یعنی لکڑی کے اس عظیم الجثہ گھوڑے کا ہے جو یونانی فوجی ٹرائے کے دروازے پر تحفہ کہہ کر چھوڑ گئے تھے۔
کیسینڈرا چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ اس کے پیٹ میں سپاہی بیٹھے ہیں، خدا کے لیے اسے شہر کے اندر مت لاؤ۔ کسی نے ایک نہ سنی۔ ٹرائے والے لکڑی کا وہ گھوڑا اندر لے آئے ۔ آدھی رات کو اس میں سے فوجی نکلے اور قلعہ کا گیٹ کھول دیا، یونانی فوج باہر منتظر تھی، وہ اندر گھس آئی اور ٹرائے کا لازوال شہر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
آج نفسیات، سیاست اور صحافت میں کیسینڈرا اس شخص کو کہتے ہیں جو سچی وارننگ دے رہا ہو اور معاشرہ اسے سنجیدہ نہ لے۔ مسک خود کو اسی قطار میں کھڑا کرتے ہیں کہ میں برسوں پہلے بتا دیتا ہوں، لوگ مانتے بعد میں ہیں۔

مسک کے بقول پیسہ بے معنی ہو جائے گا


خود مسک نے بھی انٹرویو کے آخری حصے میں اپنے لیے کیسینڈرا ایفیکٹ کی اصطلاح برتی: فوٹو اکانومسٹ

انٹرویو کا پہلا حصہ حیران کن پیش گوئیوں سے بھرا ہوا ہے۔ مسک کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ برس میں مصنوعی ذہانت پوری نوع انسانی کی مجموعی ذہانت سے آگے نکل جائے گی۔ دس برس میں شاید ہی کوئی ایسا کام بچے جو اے آئی انسان سے بہتر نہ کر سکے۔ آگے کی بات اس سے بھی دلچسپ ہے۔ ان کے بقول ڈیجیٹل ذہانت جب انسان نما روبوٹس کے ساتھ جڑ جائے گی تو معیشت نیم لامحدود ہو جائے گی۔ اشیا اور خدمات اتنی زیادہ پیدا ہوں گی کہ انسان کھپا ہی نہیں سکے گا۔ اور جب ہر چیز وافر ہو تو پیسے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ مسک کے مطابق اگلے دس برس یعنی 2036 میں پیسہ بے معنی ہو جائے گا۔

ٹماٹر اور چینی اے آئی

مسک کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل اور فزیکل یعنی جسمانی دونوں طرح کے کام اے آئی اور روبوٹس سنبھال لیں گے جس کے بعد انسانوں کے لیے کام کرنا محض ایک ’انتخاب‘ (آپشنل) رہ جائے گا۔
مسک کہتے ہیں لوگ پھر بھی کام کریں گے، شوقیہ۔ جیسے آج بھی لوگ گھر کے پچھواڑے میں ٹماٹر اُگاتے ہیں حالانکہ سٹور سے خریدنا زیادہ آسان ہے۔ ساتھ ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا گھر میں اُگایا ہوا ٹماٹر بازار جیسا اچھا نہیں ہوتا، لوگ پھر بھی اُگاتے ہیں۔ اس تبصرے کا لوگوں نے مذاق اڑایا کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ گھر کے کچن گارڈن میں اُگایا گیا ٹماٹر زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔
معروف ویب سائٹ گزموڈو کے تبصرہ نگار نے یہاں لقمہ دیا کہ جس کسی نے گھر کی کیاری کا ٹماٹر کھایا ہو وہ یہ سن کر ہکا بکا رہ جائے گا، ذائقہ تو اسی کا بہتر ہوتا ہے۔ بات شاید وہی ہے کہ آدمی جب بہت اونچائی پر پہنچ جائے تو زمین کی چھوٹی چھوٹی سچائیاں اس کی نظر سے اوجھل ہونے لگتی ہیں۔

مسک کا دعویٰ ہے کہ 2036 تک پیسے کی اہمیت ختم ہو جائے گی (فائل فوٹو: سی این این)

ویسے مسک تسلیم کرتے ہیں کہ اے آئی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دیگر مغربی ماہرین کے برعکس، مسک چینی اے آئی کمپنیوں کی ترقی سے زیادہ پریشان نہیں ہیں اور ان کے نئے ماڈلز (جیسے کیمی کے تھری) سے خاصے متاثر ہیں۔
مسک کے مطابق اس بات کا ’قوی امکان‘ ہے کہ چین بالآخر اے آئی کی دنیا کا لیڈر بن جائے گا کیونکہ اس کے پاس امریکہ سے کہیں زیادہ بجلی پیدا کرنے اور روبوٹس بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چینی ماڈلز پر پابندی کی پالیسی کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ مسک کی پیش گوئی ہے کہ امریکی برآمدی پابندیوں کے باوجود چین جلد ہی جدید چِپ سازی کا اپنا نظام وضع کر لے گا۔

معاشی بندوبست کیا ہوگا؟

مسک کے منظرنامے میں اہم سوال یہی بنتا ہے کہ جب اکانومی کی یہ حالت ہو جائے گی تو معاشی بندوست کیا ہوگا؟ آخر لوگوں کا گزارا کیسے ہو گا؟
اس کے لیے مسک نے یونیورسل ہائی انکم کی اصطلاح استعمال کی۔ یعنی حکومت لوگوں کو صرف گزارے جوگی رقم نہ دے بلکہ اچھی خاصی آمدنی دے۔ صحافی زینی نے پوچھا کہ اس کے لیے پیسہ آئے گا کہاں سے؟ مسک بولے، امریکی وزارت خزانہ بس لوگوں کو چیک جاری کر دے۔ خاتون نے کہا لیکن صرف چیک بانٹیں گے تو مہنگائی آئے گی۔ مسک نے کہا نہیں، پیداوار اتنی زیادہ ہوگی کہ مہنگائی کے بجائے الٹا قیمتیں گریں گی۔
ماہرین معیشت اس بحث پر برسوں سر کھپائیں گے۔ ایک بات مگر ذہن میں رکھیں۔ تاریخ ایسی بڑی بڑی پیش گوئیوں سے بھری پڑی ہے۔ 18ویں صدی کے آخر میں مالتھس نے کہا تھا کہ آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو دنیا بھوک سے مر جائے گی۔ 1972 میں کلب آف روم کی مشہور رپورٹ آئی کہ صدی ختم ہونے سے پہلے دنیا کے وسائل ختم ہو جائیں گے۔ دونوں دعوے غلط نکلے۔ خود مسک برسوں سے فرما رہے ہیں کہ اگلے سال ان کی گاڑیاں مکمل خود کار ہو جائیں گی۔ وہ اگلا سال ابھی تک نہیں آیا۔

جہاں ماحول بگڑنا شروع ہوا


مسک تسلیم کرتے ہیں کہ اے آئی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

انٹرویو کا پہلا حصہ خوشگوار تھا۔ خرابی وہاں سے شروع ہوئی جہاں سوالات ٹیکنالوجی سے نکل کر سیاست میں داخل ہوئے۔ زینی نے ایلون مسک کے مشورے پر یو ایس ایڈ کے خاتمے کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ افریقہ میں صحت کے پروگرام بند ہونے سے لوگ مرے ہیں۔ مسک بضد رہے کہ کوئی نہیں مرا، نجی فاؤنڈیشنز یہ خلا پُر کر سکتی تھیں۔ خاتون نے سختی سے اختلاف کیا۔
پھر یورپ کا موضوع آیا۔ مسک کا مؤقف ہے کہ یورپ اپنے زخم خود لگا رہا ہے۔ سرحدیں کھلی ہیں، تارکین وطن معاشرے میں جذب نہیں ہو رہے، اظہار پر پابندیاں ہیں اور سیاسی طبقہ سچ بولنے سے ڈرتا ہے۔ ان کے نزدیک محفوظ سرحدیں اور پُرامن شہر مانگنا انتہا پسندی نہیں، اعتدال ہے۔ زینی نے یاد دلایا کہ آپ جرمنی کی جس جماعت اے ایف ڈی کی حمایت کرتے ہیں اس میں تو پرو نازی عناصر بھی موجود ہیں۔ مسک نے کندھے اچکا دیے۔
ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اینٹی مسلم ہیں؟ مسلم مخالف ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ محض ریپ، قتل اور ان قوانین کے نفاذ کے خلاف ہیں جو مغربی روایات کے خلاف ہیں، اور وہ مین سٹریم میڈیا کو یہ سچائی تسلیم نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
انٹرویو کا اختتام مسک کی پراسرار سوچ پر ہوتا ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ بعض اوقات انہیں خود یہ سب عجیب لگتا ہے اور وہ اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ کائنات شاید ایلینز کی بنائی ہوئی ایک کمپیوٹر سمولیشن ہے۔
برطانیہ میں خانہ جنگی

ایلون مسک نے کہا کہ یورپ کی سرحدیں کھلی ہیں، تارکین وطن معاشرے میں جذب نہیں ہو رہے (فوٹو: اے ایف پی)

سب سے متنازع بات برطانیہ کے بارے میں ہوئی۔ مسک پچھلے دو برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ میں خانہ جنگی ناگزیر ہے۔
سوالات کی زد میں آ کر انہوں نے اپنی بات میں کچھ نرمی کی اور کہا کہ ایسا شاید 20 سال بعد ہو۔ یہاں ایک لطیفہ چھپا ہے جو شاید انہیں خود بھی نظر نہیں آیا۔ جو آدمی کہتا ہے کہ 10 برس میں مشینیں انسان سے ذہین ہو جائیں گی، پیسہ ختم ہو جائے گا، کام شوقیہ رہ جائے گا، وہی آدمی 20 برس بعد کے برطانیہ کو آج کی سماجی کشیدگی کے حساب سے لڑتا دیکھ رہا ہے۔ ان دونوں مستقبلوں کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں بنتا۔
ایڈیٹر زینی نے یہی نکتہ اٹھایا کہ ’آپ ایک طرف تہذیب بدل دینے والی تبدیلی کی نوید سناتے ہیں اور دوسری طرف سوشل میڈیا کی گندی نالی میں روز چھلانگ لگاتے ہیں۔ مسک کا جواب بس اتنا تھا کہ مجھے ان میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔‘

لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں


انٹرویو کا پہلا حصہ حیران کن پیش گوئیوں سے بھرا ہوا ہے:فوٹو: دی اکانومسٹ

پھر وہ لمحہ آیا جس کی ویڈیو دنیا بھر میں پھیل گئی۔ زینی نے کہا کہ کچھ لوگ آپ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ مسک بولے، ہو سکتا ہے، مجھے پروا نہیں۔ اگلے ہی سانس میں مگر اپنے فولوورز کا حوالہ دے ڈالا کہ 25 کروڑ لوگ مجھے ایکس پر فالو کرتے ہیں، چاہنے والے ناپسند کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ پھر بار بار دہراتے رہے کہ لوگ تم سے اور تمہارے میڈیا سے مجھ سے کہیں زیادہ نفرت کرتے ہیں، اصل مسئلہ تم لوگ ہو۔
اسی جھنجھلاہٹ میں دی اکانومسٹ پر طنز کیا کہ یورپ میں گرمی سے مرنے والوں کی تعداد امریکہ میں شوٹنگ سے مرنے والوں سے زیادہ ہے، تم لوگ ایئرکنڈیشنر پر مضمون کیوں نہیں لکھتے؟ زینی نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا کہ ہم ایئرکنڈیشننگ پر کئی مضامین لکھ چکے ہیں، پچھلے ہفتے تو ہمارے سرورق کی کہانی ہی یہی تھی۔ مسک نے جھینپ کر پوچھا، ایئرکنڈیشننگ کے حق میں؟ خاتون نے کہا، بھرپور حق میں، آپ کو کبھی کبھار ہمیں پڑھ بھی لینا چاہیے۔ اس جملے نے مسک کو کھسیانا کر دیا۔
انٹرویو کے بعد کیا ہوا؟
اصل تماشا کیمرے بند ہونے کے بعد شروع ہوا۔ اگلے کئی دن مسک اپنے پلیٹ فارم ایکس پر زینی منٹن بیڈوز کے پیچھے پڑے رہے۔ لکھا کہ یہ مغرب کی غدار ہے۔ ایک اور پوسٹ میں انہیں شعور سے عاری ووک این پی سی کہا۔ 27 جولائی کو پھر ٹویٹ کیا کہ یہ بغیر سوچے سمجھے چلنے والی این پی سی ہے۔ این پی سی ویڈیو گیمز کی اصطلاح ہے، اس کردار کے لیے جو خود نہیں سوچتا، بس پروگرام کے مطابق چلتا رہتا ہے۔ آن لائن دنیا میں یہ باقاعدہ گالی سمجھی جاتی ہے۔
اکانومسٹ کی ایڈیٹر نے مسک کی گالی کا جواب مثبت طرزعمل سے دیا۔ زینی منٹن بیڈوز نے امریکی چینل سی این بی سی کے پروگرام میں بیٹھ کر کہا کہ میں مسک سے نفرت کرنے والوں میں سے نہیں، وہ ایک غیر معمولی انسان ہیں اور شاید کسی بھی زندہ شخص سے زیادہ انہوں نے مستقبل بنانے میں حصہ ڈالا ہے۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ اے آئی کے بارے میں ان کی باتوں کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔

تو قارون یا کیسینڈرا؟


مسک نے انٹرویو میں اپنے فولوورز کا حوالہ دیا کہ 25 کروڑ لوگ مجھے ایکس پر فالو کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

میں یہ نہیں ​کہتا کہ مسک قارون ہیں، ایسے فتوے دینا میرا کام نہیں۔ اس انٹرویو میں مگر وہی لہجہ بار بار سنائی دیا۔ ’لاکھوں لوگ متاثر ہوں تو ہوں، فیصلہ میرا چلے گا۔ ‘میرے فولوورز زیادہ ہیں، اس لیے سچ بھی میرے پاس ہے۔ ’سوال کرنے والا جھکے نہیں تو غدار ہے۔ مجھے تو یہ لگا کہ دولت بذات خود آدمی کو کم خراب کرتی ہے، اصل تباہی وہ خوش فہمی لاتی ہے کہ اب مجھے کسی سے مکالمے کی ضرورت نہیں رہی۔‘
اور کیسینڈرا؟ یہ تشبیہ تو مسک پر پوری اترتی ہی نہیں۔ وجہ بڑی سیدھی ہے۔ کیسینڈرا کو یہ بد دعا دی گئی تھی کہ سچ بولنے کے باوجود کوئی اس پر یقین نہ کرے۔ مسک کا معاملہ الٹ ہے۔ ان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا لاؤڈ سپیکر(ایکس یعنی ٹوئٹر) ہے۔ کروڑوں لوگ ان کی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتے ہیں۔ ان کی ایک ٹویٹ سے کمپنیوں کے شیئر گرتے چڑھتے ہیں، ملکوں کی سیاست ہل جاتی ہے۔ ٹرائے کی شہزادی ترستی تھی کہ کوئی اس کی سن لے۔ مسک کے ہاں سننے والوں کا ہجوم ہے، کمی ہے تو ٹوکنے والوں کی، سوال کرنے والوں کی۔
اپالو کی بددعا کیسینڈرا پر یہ تھی کہ اس کی بات کوئی نہ مانے۔ اکیسویں صدی کی بد دعا شاید یہ ہے کہ طاقتور آدمی کی ہر بات مان لی جائے اور اسے کوئی ٹوکنے والا نہ ملے۔ زینی منٹن بیڈوز نے ڈیڑھ گھنٹے تک یہی ٹوکنے کا کام کیا اور جواب میں غدار ٹھہریں۔
تو یارو، اصل سوال یہ نہیں کہ ایلون مسک قارون ہیں یا کیسینڈرا؟ اصل سوال یہ ہے کہ جس دنیا کا نقشہ وہ کھینچ رہے ہیں جہاں مشینیں انسان سے زیادہ سمجھدار ہوں گی اور فیصلے چند ہاتھوں میں سمٹ جائیں گے، وہاں سوال پوچھنے والوں کے لیے کوئی جگہ بچے گی بھی یا نہیں؟

شیئر: