Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: سُوئی میں دو مختلف حملوں میں ایف سی کے چار اہلکار جان سے گئے، ایک حملہ آور مارا گیا

بلوچستان کے ضلع جنوبی ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سُوئی میں ایف سی پر دو مختلف حملوں میں چار اہلکاروں سمیت پانچ افراد جان سے گئے جبکہ جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔
ڈیرہ بگٹی پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پہلا حملہ پیر کی صبح سوئی کشمور روڈ پر عنایت شاہ دربار کے قریب ہوا۔‘
اُن کے مطابق ’قریباً ایک درجن مسلح حملہ آوروں نے ایف سی بمبور رائفلز کی تین گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو نشانہ بنایا۔ ایف سی کا یہ قافلہ سوئی سے پیرکوہ کی جانب جا رہا تھا۔‘
’حملے میں چار ایف سی اہلکار اور ایک سول ڈرائیور کی جان چلی گئی۔ ایف سی اہلکاروں میں لانس نائیک خانزادہ، نائیک عبدالوحید، سپاہی احسان علی اور لانس نائیک شاہ حسین شامل ہیں جبکہ سول ڈرائیور کی شناخت علی شیر کے نام سے ہوئی ہے۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایف سی کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔
پولیس افسر کے مطابق ’پیر کی شام سوئی کشمور روڈ پر ایف سی کی ایک چوکی کو بھی نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے نشانہ بنایا۔‘
’حملہ آوروں کی فائرنگ کے بعد ایف سی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دیگر حملہ آور ایک موٹر سائیکل اور اپنے ساتھی کی لاش چھوڑ کر فرار ہوگئے۔‘
ایف سی نے ہلاک حملہ آور کی نعش اور موٹر سائیکل کو تحویل میں لے لیا۔
دوسری جانب سُوئی کے علاقے ڈولی میں بھی نامعلوم افراد کی جانب سے ایک نجی گاڑی کے ڈرائیور کو مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس واقعے کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
 ڈیرہ بگٹی میں ماضی میں بھی سکیورٹی فورسز، گیس تنصیبات اور دیگر سرکاری و نجی تنصیبات پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
بلوچستان کے اس علاقے میں بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) سرگرم رہی ہے۔ طویل وقفے کے بعد شمالی ڈیرہ بگٹی کے علاقے لوٹی میں سنیچر کو ایک گیس کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا گیا۔
اس واقعے میں پولیس کے مطابق کیمپ کی سکیورٹی پر مامور قبائلی امن فورس کے ساتھ جھڑپ میں آٹھ حملہ آور مارے گئے تھے جبکہ امن فورس کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بی آر اے نے قبول کی۔
تاہم سوئی میں پیر کو ہونے والے حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

شیئر: