Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا ’سٹرینتھ ٹریننگ‘ نیند کو بہتر بنا سکتی ہے؟

سٹرینتھ ٹریننگ میں پٹھوں کو مزاحمت کے خلاف کام کرایا جاتا ہے (فوٹو: پکسابے)
اچھی نیند جسم کی بحالی کے لیے ضروری ہے، لیکن ذہنی دباؤ، طویل اوقاتِ کار، سکرین کا زیادہ استعمال اور بے ترتیب معمولات بہتر نیند میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق اگرچہ چہل قدمی اور دیگر ورزشوں کو نیند بہتر بنانے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، لیکن طاقت بڑھانے والی ورزش(سٹرینتھ ٹریننگ) بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
سٹرینتھ ٹریننگ میں پٹھوں کو مزاحمت کے خلاف کام کرایا جاتا ہے، جیسے جسمانی وزن سے ورزش، ریزسٹنس بینڈ، وزن اٹھانا یا جم کی مشینیں استعمال کرنا۔ باقاعدگی سے ایسی ورزش نیند کے معیار کو بہتر بنانے اور جلد نیند آنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم ورزش کا وقت، شدت اور تسلسل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سٹرینتھ ٹریننگ ورزش نیند میں کیسے مدد کرتی ہے؟
ذہنی دباؤ میں کمی: ورزش تناؤ کو کم کرتی ہے اور ذہنی سکون فراہم کرتی ہے، جس سے سونے کے وقت آرام محسوس ہوتا ہے۔
مزاج میں بہتری: باقاعدہ جسمانی سرگرمی ذہنی دباؤ اور بے چینی کو کم کر کے مزاج بہتر بناتی ہے، جس سے رات کو سکون سے سونا آسان ہو جاتا ہے۔
جسمانی تھکن پیدا کرنا: پٹھوں پر کام کرنے سے قدرتی تھکن پیدا ہوتی ہے جو بعد میں بہتر نیند میں مدد کر سکتی ہے۔
نیند کے معیار میں بہتری: تحقیق کے مطابق باقاعدہ ورزش نیند کے معیار اور دورانیے دونوں میں بہتری لا سکتی ہے۔
معمولات میں نظم: مستقل ورزش روزمرہ معمولات کو منظم بنانے میں مدد دیتی ہے، جو اچھی نیند کے لیے فائدہ مند ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نیند کے مسائل کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں (فوٹو: پکسابے)

تحقیق کیا کہتی ہے؟
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی بہت سے افراد میں نیند کو بہتر بناتی ہے۔ سٹرینتھ ٹریننگ کے بھی مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں، خاص طور پر جب اسے دیگر جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔ تاہم زیادہ سخت یا طویل ورزش لازمی طور پر بہتر نیند کا سبب نہیں بنتی۔ عموماً مستقل مزاجی زیادہ اہم ہوتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نیند کے مسائل کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں طبی مسائل، ادویات، کیفین، الکحل، ذہنی دباؤ اور بے ترتیب سونے جاگنے کا شیڈول شامل ہیں۔
سٹرینتھ ٹریننگ کتنی بار کرنی چاہیے؟
آہستہ آغاز کریں اور درست تکنیک اپنائیں۔
باقاعدگی برقرار رکھیں۔
جسم کے مختلف عضلات کی ورزش کریں۔
پٹھوں کی بحالی کے لیے آرام کے دن رکھیں۔

رات کے وقت ورزش کے اثرات ہر فرد میں مختلف ہوتے ہیں (فوٹو: پکسابے)

چہل قدمی یا سائیکلنگ جیسی سرگرمیوں کو بھی معمول کا حصہ بنائیں۔
کیا سونے سے پہلے ورزش کر سکتے ہیں؟
رات کے وقت ورزش کے اثرات ہر فرد میں مختلف ہوتے ہیں۔ بعض افراد کو اس کے بعد زیادہ سکون اور غنودگی محسوس ہوتی ہے جبکہ کچھ لوگ زیادہ چوکنا ہو جاتے ہیں۔ اگر سونے سے پہلے طاقت بڑھانے والی ورزش آپ کی نیند متاثر کرتی ہے تو اسے دن کے پہلے حصے میں منتقل کرنا بہتر ہے۔ شام کو ہلکی ورزش عموماً شدید ورزش کے مقابلے میں زیادہ موزوں ہوتی ہے۔
ورزش بہتر نیند میں مدد کر سکتی ہے، لیکن باقاعدہ سونے کا وقت، آرام دہ کمرہ، سونے سے پہلے سکرین کے محدود استعمال اور کیفین سے پرہیز جیسی عادات بھی اتنی ہی اہم ہیں۔

 

شیئر: