Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایمان داری ہی واحد سکیورٹی سسٹم‘، سوئٹزرلینڈ کی ایک انوکھی دکان جہاں کوئی کیشیئر یا ملازم نہیں

سوئٹزر لینڈ کے گائوں گِمل والڈ کی منفرد ’دی آنیسٹی شاپ‘ کی کامیابی کا راز لوگوں کی ایمان داری ہے (فوٹو: فیس بک آفیشل)
سوئٹزرلینڈ اپنے پُرسکون پہاڑوں، خاموش دیہات اور ٹرین کے دلکش سفر کے لیے مشہور ہے، لیکن گِمل والڈ نامی ایک گاؤں کی ایک چھوٹی سی دکان ایک بالکل منفرد وجہ سے لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے
۔ یہ ’دی آنیسٹی شاپ‘ (The Honesty Shop) کے نام سے مشہور ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس دکان پر نہ کوئی دکاندار ہے، نہ کیشیئر اور نہ ہی کوئی ملازم جو گاہکوں کی نگرانی کرے۔ اس کے باوجود دکان کی الماریاں مٹھائیوں، ہاتھ سے تیار کی گئی اشیا، کپڑوں، قدیم نوادرات اور سیاحوں کے لیے یادگاری اشیا سے بھری رہتی ہیں۔
انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک ٹریول کانٹینٹ کریئیٹر نے اس انوکھی دکان کی ویڈیو شیئر کی اور اس کے سادہ نظام پر موجود اعتماد پر حیرت کا اظہار کیا۔
دی آنیسٹی شاپ کا طریقۂ کار انتہائی سادہ ہے۔ گاہک اپنی پسند کی چیز اُٹھاتے ہیں، اس کی قیمت دیکھتے ہیں، کاؤنٹر پر رقم رکھ دیتے ہیں اور سامان لے کر چلے جاتے ہیں۔ یہ دیکھنے والا کوئی موجود نہیں ہوتا کہ گاہک نے پوری رقم ادا کی ہے یا نہیں۔ دکان صرف اسی بنیاد پر چل رہی ہے کہ لوگوں سے ایمان داری کی توقع کی جاتی ہے۔
انسٹاگرام پر اس کریئیٹر نے لکھا،’پی او وی: آپ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک ایسی دکان مل گئی جہاں ایمان داری ہی واحد سکیورٹی سسٹم ہے۔ نہ کوئی کیشیئر، نہ کوئی نگرانی کرنے والا۔ بس جو ضرورت ہو اُٹھائیں اور اس کی قیمت ادا کریں۔ اور سچ کہوں تو یہ چھوٹا سا تجربہ کچھ مشہور سیاحتی مقامات کی نسبت زیادہ یادگار محسوس ہوا۔‘
دی آنیسٹی شاپ کے مالک ڈیوڈ واٹرہاؤس نے دکان کی ویب سائٹ پر بتایا کہ ’انہوں نے جب یہ جائیداد خریدی تو یہ دکان سو سال پرانے پینشن گِمل والڈ ہوٹل کا حصہ تھی۔ گاؤں کی یہ دکان تقریباً دس سال سے بند تھی اور وہ اسے دوبارہ کھولنا چاہتے تھے۔ دکان پر چونکہ مستقل ملازمین رکھنا عملی طور پر ممکن نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے دکان کو دکان دار کے بغیر ہی چلانے کا فیصلہ کیا۔‘

دی آنیسٹی شاپ  پر آنے والے گاہک اپنی پسند کی چیز اُٹھاتے ہیں، اس کی قیمت دیکھتے ہیں اور کاؤنٹر پر رقم رکھ دیتے ہیں (فوٹو: فیس بک آفیشل)

اس خیال کی بنیاد انہیں کارن وال میں کھیتی باڑی کے دوران ملی تھی، جہاں کسان اپنے گھروں کے باہر تازہ پھل اور سبزیاں رکھ دیتے ہیں اور ساتھ ایک ڈبہ ہوتا ہے جس میں خریدار رقم ڈال جاتے ہیں۔
گِمل والڈ کی اس دکان میں بھی یہی اعتماد پر مبنی نظام اپنایا گیا، جو اب کامیابی سے چل رہا ہے۔ اس سادہ سے خیال نے دکان کو سوئٹزرلینڈ کے اس خوب صورت گاؤں کا ایک معروف سیاحتی مرکز بھی بنا دیا ہے۔

شیئر: