Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پہلی کامیاب روبوٹک سرجری کا عملی مظاہرہ

روبوٹک مشینوں میں نصب کیمرے اور سکرینز سرجن کو جسم کے اندرونی حصوں کی واضح تصویر فراہم کرتے ہیں (فائل فوٹو: پِکسابے)
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے بڑے تدریسی ہسپتال لیڈی ریڈنگ (ایک آر ایچ) نے طبی شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ 
ایل آر ایچ میں پہلی بار گُردوں کا آپریشن روبوٹس کے ذریعے کروایا گیا۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے یورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ورکشاپ کے دوران جدید روبوٹک سرجری کا عملی مظاہرہ کیا گیا جس میں ماہر سرجنز نے روبوٹ کی مدد سے مریضوں کی سرجری انجام دی۔
ایل آر ایچ کی انتظامیہ کے مطابق ہسپتال میں منعقدہ ایک ورکشاپ کے دوران گُردوں کی سرجری یورولوجی یونٹ اور برطانیہ سے آئے ماہر ڈاکٹروں نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ 
ان کے ساتھ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے یورولوجی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر عذرا غنی اور دیگر ایسوسی ایٹ پروفیسرز نے بھی اس ورکشاپ میں شرکت کی۔ 
ترجمان ایل آر ایچ نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس ورکشاپ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ آپریشن تھیٹر میں ہونے والی سرجری کو براہِ راست ہسپتال کے آڈیٹوریم میں بڑی سکرین پر نشر کیا گیا تاکہ دیگر ڈاکٹرز اور شرکا اس جدید طریقۂ کار کو قریب سے دیکھ اور سیکھ سکیں۔ 
ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد نہ صرف ڈاکٹرز کو تربیت فراہم کرنا تھا بلکہ مقامی سطح پر جدید سرجیکل مہارتوں کو فروغ دینا بھی تھا۔
پاکستان کے مختلف شہروں کے ہسپتالوں میں اس سے قبل بھی روبوٹک سرجریز ہو چکی ہیں، تاہم پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پہلی بار روبوٹس کے ذریعے سرجری کروائی گئی۔ 
اس حوالے سے ہسپتال کے ترجمان بتاتے ہیں کہ ’یہ سرجریز جدید ترین روبوٹک سسٹمز اور ہائی ریزولوشن کیمروں کی مدد سے کی گئیں۔ روایتی اوپن سرجری کے مقابلے میں روبوٹک سرجری کم تکلیف دہ اور زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔‘
’اوپن سرجری میں زیادہ وقت لگتا ہے، زخم بھی بڑے آتے ہیں اور پیچیدگیوں کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ روبوٹک سرجری میں چھوٹے کیمروں اور روبوٹک بازوؤں کی مدد سے نہایت باریکی اور دُرستی کے ساتھ آپریشن کیا جاتا ہے۔‘

انتظامیہ کے مطابق ’ہسپتال جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی‘ (فائل فوٹو: وِکی پیڈیا)

ترجمان کے مطابق ان روبوٹک مشینوں کی مالیت کروڑوں روپے تک ہوتی ہے اور ان میں نصب کیمرے اور سکرینز سرجن کو جسم کے اندرونی حصوں کی واضح تصویر فراہم کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ورکشاپ کے دوران مقامی ڈاکٹرز نے برطانیہ سے آئے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کیا۔‘ 
’اس اشتراک کا مقصد نہ صرف ایک کامیاب آپریشن کرنا تھا بلکہ مقامی ڈاکٹرز کو اس جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا بھی تھا۔‘
ہسپتال انتظامیہ نے اس ورکشاپ کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ہسپتال کے ڈین، ڈائریکٹر اور میڈیکل ڈائریکٹر نے اس موقعے پر شرکاء اور ڈاکٹرز کو مبارک باد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
ترجمان ہسپتال کے مطابق انتظامیہ کی کوشش ہے کہ مستقبل میں نہ صرف یورولوجی بلکہ دیگر شعبہ جات میں بھی روبوٹک سرجری متعارف کرائی جائے۔ 

ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’ہم مستقبل میں جنرل سرجری اور دِل کی سرجری روبوٹک طریقے سے کروانا چاہتے ہیں‘ (فائل فوٹو: پِکسابے)

اس حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ ’انتظامیہ چاہتی ہے کہ مستقبل میں جنرل سرجری، بچوں کی سرجری، دِل کی سرجری اور آنکھوں کی سرجری روبوٹک طریقے سے کروائی جائیں۔‘
’اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال انتظامیہ اپنی سطح پر ایسی مہنگی مشینری خریدنے اور ڈاکٹرز کو باقاعدہ تربیت فراہم کرنے کے منصوبے پر بھی غور کر رہی ہے۔‘
یاد رہے کہ روبوٹک سرجری ایک جدید طریقہ علاج ہے جس میں ڈاکٹرز ہی سرجری کرتے ہیں، تاہم انہیں ایک جدید روبوٹک سسٹم کی مدد حاصل ہوتی ہے۔
 اس میں سسٹم کے ذریعے انتہائی باریک آلات اور ہائی ڈیفینیشن کیمرے استعمال کیے جاتے ہیں جو جسم کے اندرونی حصوں کو واضح طور پر دکھاتے ہیں۔ 
طبی ماہرین کے مطابق روبوٹک سرجری کی مدد سے کم زخم، خون کا کم ضیاع، انفیکشن کے کم امکانات اور تیز ریکوری کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

شیئر: