مغربی کنارے کے ایک گاؤں پر 100 سے زیادہ اسرائیلی آبادکاروں نے منگل کی صبح حملہ کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعے میں فلسطینیوں کے دو گھر جلائے گئے جبکہ تین اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل کے فوجی اہلکار اس فلسطینی خاندان کو جالود گاؤں میں واقع اس کے گھر پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے جو دو ماہ قبل اسرائیلی آبادکاروں کے باعث بے گھر ہو گیا تھا۔
آج ہونے والے اس واقعے کو اسرائیلی حکام کی جانب سے بھی غیرمعمولی مذمت کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص اور دو کم عمر افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ 100 سے زائد اسرائیلی مظاہرین رات کے وقت جالود کے علاقے میں موجود تھے جب سکیورٹی اہلکار خاندان کو اس کے گھر پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
فوج کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس نے پولیس کے ساتھ مل کر آباکاروں کو منشتر کرنے کے لیے کارروائی بھی کی۔
ایک اسرائیلی فوجی کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں بارڈر فورس کے تین اہلکار معمولی زخمی ہوئے جبکہ فورسز کی ایک گاڑی کو نقصان بھی پہنچا۔
فوج کا کہنا ہے کہ آبادکاروں نے سڑکیں بند کر دیں، ٹائر جلائے اور فورسز پر پتھراؤ کیا اور گاؤں کے اندر فلسطینیوں کے گھروں اور گاڑیوں کو آگ بھی لگائی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملے کے باعث اس فلسطینی خاندان کی واپسی روک دی گئی جو اسرائیل کے ایسے ہی قوم پرستانہ واقعات کی وجہ سے بے گھر ہوا تھا۔