ریاض حملہ: زخمیوں کی ریکارڈ وقت میں طبی امداد کیسے ممکن بنائی گئی؟
منگل 13 اکتوبر 2026 21:37
400 کے قریب خصوصی طبی عملے نے خدمات انجام دیں ( فوٹو: الشرق الاوسط)
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے بعد زخمیوں کو ریکارڈ وقت میں طبی امداد فراہم کی گئی۔
الشرق الاوسط کے مطابق ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو ان کے زخموں کی نوعیت کے اعتبار سے 3 کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا۔
جن زخمیوں کی حالت نازک تھی ان کی فوری سرجری کی گئی جبکہ معمولی زخمیوں کا ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں علاج کا گیا حالت مستحکم ہونے پر انہیں جانے کی اجازت دی گئی۔
ڈاکٹر سلیمان الحبیب ہسپتال میں آرتھوپیڈک سرجری شعبے کے سربراہ ڈاکٹر معد الساعاتی نے بتایا واقعے کے محض 10 گھنٹے کے دوران مختلف نوعیت کی 25 سرجری کی گئیں ان میں جنرل، ویسکولر اور آرتھو پیڈک سرجری شامل تھی۔
ڈاکٹر الساعاتی نے بتایا اس وقت صرف دو مریض انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں جبکہ دیگر زخمیوں کو جنرل وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔ بعض زخمیوں کی فلو اپ سرجری کی جائے گی۔

زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے 400 کے قریب خصوصی طبی عملے نے خدمات انجام دیں۔ ان میں جنرل سرجری، آرتھوپیڈک، نیورو، ویسکولر اور دیگر شعبوں کے ماہرین شامل تھے۔ طبی ٹیموں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیارات کے مطابق کام کیا۔

یاد رہے واقعے کے بعد کنگ خالد انٹرننیشنل ایئرپورٹ پر ایمرجنسی سروسز، سکیورٹی ایجنسیاں اور دیگر متعلقہ حکام متحرک ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے طبی ٹیمیں پورے ٹرمینل پر تعینات رہیں۔
زخمیوں کو ریاض کے کئی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ صحت کے شعبے کی دیگر سرکاری اور نجی مراکز سٹینڈ بائی پر رہے۔
