Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گلزار 92 برس کا ایک بچہ، عامر خاکوانی کا کالم

گلزار نے 150 سے زیادہ فلموں کے لیے گیت لکھے اور فلموں کی ہدایت کاری بھی کی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
جُون کے آخری دن تھے۔ ممبئی میں مون سون کی بارش ہو رہی تھی۔ نیو یارک ٹائمز کے نامہ نگار مجیب مشال ایک ڈھلوان گلی میں، دو منزلہ مکان کے باہر دروازہ کھلنے کے منتظر کھڑے تھے۔ گلی خاموش تھی، بس بارش کی مسلسل آواز سنائی دے رہی تھی۔
اندر پہنچے تو سفید کرتا پاجامہ پہنے گلزار اپنی کرسی پر بیٹھے تھے۔ پہلی بات موسم کی ہوئی۔ میزبان بولے، پورا شہر بھیگا ہوا ہے، کتنا دلچسپ احساس ہے نا؟ اوپر بادلوں سے کچھ آپ کے سر پر گر رہا ہے، جیسے وہ آپ کے ساتھ کھیل رہے ہوں۔
ایسی دِل کش خیال آفرینی گلزار ہی کے حصے میں آ سکتی ہے۔ 92 سال کے لیجنڈری شاعر، لکھاری اور فلم ساز گلزار۔
تین دن قبل نیو یارک ٹائمز کے انٹرنیشنل ایڈیشن میں شائع ہونے والا گلزار کا یہ طویل پروفائل پڑھتے ہوئے میں اِس بات پر رُک گیا۔ 90 پلس عمر میں بارش دیکھ کر کسی آدمی کو بادلوں کی شرارت سُوجھ رہی ہے۔
ہم لاہور کے ساون میں گلیوں، سڑکوں پر کھڑا پانی دیکھتے ہیں، بجلی کے آنے جانے کا سوچتے ہیں، باہر نکلیں تو ٹریفک جام کو کوستے ہیں۔ 
میرے جیسے اخبار نویس بھی بارش میں خبر دیکھتے ہیں کہ چلو صوبائی حکومت کی بیڈ گورننس تو نمایاں ہوئی۔ 
ہمارے ہاں بارش سے خبر چھلکتی ہے، نظم نہیں بنتی۔ گلزار کی دنیا البتہ الگ ہے۔ آج اسی دنیا میں جھانکتے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کا پروفائل بہت خُوب صورت اور دِل آویز ہے۔ 
برصغیر میں گذشتہ چھ دہائیوں کے دوران محبت، جُدائی، تنہائی اور یاد کے کتنے ہی لمحوں کو اُن کے لفظوں نے زبان دی۔ 150 سے زیادہ فلموں کے لیے گیت، فلموں کی ہدایت کاری، کہانیاں، بچوں کی کتابیں اور سحر انگیز شاعری الگ۔
فلم ’اجازت‘ کا اُن کا شاندار گیت ’میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے‘، جس میں ایک عورت بچھڑنے کے بعد اپنا سامان واپس مانگتی ہے، مگر وہ سامان کسی الماری میں نہیں، وقت اور یاد کی تہوں میں کہیں رہ گیا ہے۔ 
آشا بھوسلے کا گایا یہ گیت کسی نے نہیں سنا تو اسے اپنے ذوق پر افسوس کرنا چاہیے۔ ماچس کا ’چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں...‘ اور پھر فلم عشقیہ کی وہ شوخ سی لطیف بات، ’دل تو بچہ ہے جی۔‘ ویسے کیا ڈُوب کر اداکاری کی اس گیت میں گریٹ نصیرالدین شاہ نے۔ 

گلزار اپنے آبائی قصبے دینہ واپس جانے سے ہچکچاتے رہے کہ کہیں اُن کے ذہن میں محفوظ تصویر خراب نہ ہو جائے (فائل فوٹو: وِکی پیڈیا)

گلزار اپنے فن کا ایک راز بہت سادہ الفاظ میں بیان کر چکے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ’لکھنے والے کے لیے شاید سب سے مشکل کام سادہ ہونا ہے۔ تحریر کو گفتگو کے جتنا قریب رکھا جا سکے، اتنا بہتر۔‘ اُن کے گیت سن کر واقعی یہی لگتا ہے۔ 
گلزار آج بھی سُورج کے ساتھ جاگتے اور صبح اپنی میز پر ہوتے ہیں۔ طلوعِ آفتاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ آسمان یوں کھلتا ہے جیسے کپڑے کا تھان کھل رہا ہو۔
یہ جملہ پڑھ کر میں رُک گیا، کیونکہ اُن کے والد کپڑے کی دُکان چلاتے تھے اور گلزار کا بچپن بھی کپڑے کے تھانوں اور کپڑے کی اس دنیا کے آس پاس گزرا۔
آدمی کتنا ہی بڑا ہو جائے، بچپن کی کوئی کھڑکی شاید ہمیشہ کھلی رہتی ہے۔ گلزار کے لیے ہر صبح اُفق پر روشنی کا تھان کھلتا ہوگا تو کہیں بہت پیچھے دینہ، جہلم یا دہلی کی کسی دکان کا منظر بھی ساتھ کُھل جاتا ہوگا۔
نیو یارک ٹائمز کے اس پروفائل کے لیے گلزار کی مترجم رخشندہ جلیل نے ایک بڑا پیارا واقعہ سنایا۔ 2019 کے آس پاس وہ گلزار کے ساتھ فلائٹ میں کینیڈا جا رہی تھیں۔ خود لیپ ٹاپ پر کام کر رہی تھیں، گلزار کھڑکی والی نشست پر بیٹھے باہر دیکھ رہے تھے۔ 
اچانک رخشندہ نے انہیں کہتے سنا، بھیڑیں، بھیڑیں، آپس میں لڑ رہی ہیں۔ رخشندہ نے حیرت سے دیکھا تو گلزار نے بادلوں کی طرف اشارہ کیا۔ دیکھو، یہ تمہیں ایسی بھیڑیں نہیں لگ رہیں جو آپس میں اُلجھ گئی ہوں؟

بیٹی میگھنا کی پہلی سالگرہ سے تیرھویں سالگرہ تک گلزار نے ہر سال نئی کتاب لکھ کر انہیں تحفے میں دی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اُس وقت گلزار کوئی 85 برس کے تھے اور ہوائی جہاز کی کھڑکی سے بادلوں میں اُلجھتی بھیڑیں دیکھ رہے تھے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ پینتس چالیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے کھڑکی والی نشست سے باہر دیکھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
ہم میں سے بہت سے لوگ زندگی گزارتے ہیں، چند ایک اسے دیکھتے بھی رہتے ہیں۔ گلزار دوسری قسم کے آدمی ہیں۔
اب ذرا پیچھے چلیے، کیونکہ اِس کہانی کی جڑیں ہماری زمین میں ہیں۔ گلزار کا اصل نام سمپورن سنگھ کالرا ہے۔ جہلم کے قریب دینہ میں ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 
چند ماہ کے تھے کہ ماں کا انتقال ہوگیا۔ والد کی دینہ میں کپڑے کی دکان تھی، دہلی میں بھی ایک دکان کھول رکھی تھی۔ ننھے سمپورن کو اپنے ساتھ دہلی لے گئے۔
دن میں سکول اور دُکان، شام کو وہ لڑکا دُکان کے سٹور رُوم میں جا پڑتا۔ سونے سے پہلے مگر ایک اور دنیا آباد ہوتی۔ لالٹین کی روشنی میں اردو کے جاسوسی ناول پڑھے جاتے، جو سڑک پار ایک کھوکھے سے کرائے پر ملتے تھے۔
پھر ایک دن دکان دار نے رابندر ناتھ ٹیگور کی ’دی گارڈنر‘ کا اردو ترجمہ دے دیا۔ لڑکے نے کتاب پڑھی، پھر پڑھی، بار بار کرائے پر لی، یہاں تک کہ ایک دن واپس ہی نہیں کی۔

گلزار 90 برس کی عمر تک ٹینس بھی کھیلتے رہے اور اب بھی اہم میچ دیکھتے ہیں (فائنل فوٹو: اے ایف پی)

گلزار مانتے ہیں کہ زندگی میں چُرائی جانے والی پہلی کتاب یہی تھی۔ آہ، اس میدان میں گلزار تنہا نہیں، بہت سے کتاب دوست چاہتے نہ چاہتے کبھی اس کھائی میں ضرور گرے ہیں۔ بعض چوریاں شاید ادب کی عدالت میں معاف کر دینی چاہییں۔
سکول میں ادب کے استاد ایک مسلمان مولوی صاحب تھے۔ بچوں کو اشعار یاد کراتے۔ گلزار کہتے ہیں، شعر یوں ذہن میں اُتارے جاتے جیسے مذہبی کلام جذب کیا جاتا ہے۔ ایک سکھ بچہ، مسلمان استاد، اردو کی کتابیں اور بنگال کا ٹیگور۔ یہ وہ پرانا برصغیر تھا جس کے بارے میں شاید آج سوچنا بھی محال ہوگیا۔
سینتالیس میں تقسیم کے بعد پنجاب نے بدترین قتل وغارت دیکھی۔ گلزار کے دینہ میں موجود بہن بھائیوں کو گھر چھوڑ کر دہلی آنا پڑا، مگر دہلی بھی محفوظ نہ تھی۔ نوعمر گلزار نے سڑکوں پر لاشیں دیکھیں۔ اگلے قریباً 20 برس تک ڈراؤنے خواب انہیں نیند سے جگاتے رہے۔ 
انہوں نے مجیب مشال سے کہا کہ لکھنا آپ کی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ انسان اپنا اظہار کرتا، اپنا بوجھ ہلکا کرتا اور اندر جمع غبار باہر نکالتا ہے۔ شاید اسی لیے گلزار کی نرمی میں کہیں بہت اندر ایک نمی سی محسوس ہوتی ہے۔

گلزار 90 پلس ہونے کے بعد بھی نئی کتابیں پڑھتے اور آرٹیفیشل انٹیلی جینس کی پیش رفت جاننا چاہتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بٹوارے نے دونوں طرف کے کتنے ہی لکھنے والوں کے اندر ایک ایسا شہر یا گاؤں چھوڑ دیا جو پھر کبھی پوری طرح واپس نہیں ملا۔ انتظار حسین ڈبائی چھوڑ کر لاہور آئے اور اپنی کھوئی ہوئی بستیوں کو کہانیوں میں ڈھونڈتے رہے۔ منٹو بمبئی سے لاہور آئے مگر بمبئی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ گلزار دوسری سمت گئے، مگر دینہ اُن کے اندر آباد رہا۔
ایک انٹرویو میں گلزار نے بتایا کہ وہ طویل عرصے تک اپنے آبائی قصبے واپس جانے سے ہچکچاتے رہے۔ ان کے ذہن میں دینہ کی گلی، گھر اور پورا منظر ایک تصویر کی طرح محفوظ تھا۔ ڈرتے تھے کہ واپس گئے اور سب کچھ بدلا ہوا نکلا تو وہ تصویر کہیں خراب نہ ہو جائے۔ 
بعض بستیاں شاید نقشے سے زیادہ یاد میں آباد رہتی ہیں۔ اسی انٹرویو میں گلزار نے پاکستان کو اپنا ’وطن‘ اور انڈیا کو اپنا ’دیش‘ کہا۔ مادری زبان پنجابی، مگر پہلی زبان اردو۔ دینہ میں تختی پر اردو لکھتے تھے۔ شاید اسی لیے سرحد اُن کے جغرافیے کو تو بدل سکی، زبان اور یاد کو نہیں۔
دہلی کا گھر مہاجر رشتہ داروں سے بھر گیا تو والد نے نوجوان بیٹے کو ممبئی بھیج دیا۔ وہاں تعلیم کے ساتھ ایک موٹر گیراج میں برسوں کام کیا۔ حادثے میں خراب گاڑی کی مُرمت کے لیے رنگ ملا کر عین وہی شیڈ بنانا ہوتا جو اس کا اصل رنگ تھا۔ ذرا سا ہلکا یا گہرا ہوا تو مُرمت کا نشان دکھائی دیتا۔

راکھی کا ایک فقرہ گلزار آج بھی محبت سے دُہراتے ہیں: ’اگر تم شاعر نہ ہوتے تو خاصے عام سے آدمی ہوتے‘ (فائل فوٹو: اے این آئی)

مجھے یہ تفصیل گلزار کی شاعری سمجھنے کی چھوٹی سی چابی لگتی ہے۔ شاید وہ بعد میں بھی یہی کرتے رہے: ہر کیفیت کے لیے عین اس کا رنگ تلاش کرنا، ایک درجہ زیادہ، نہ کم۔ گیراج میں رنگ ملانے والا لڑکا شاید کبھی اُن کے اندر سے گیا ہی نہیں۔ بس گاڑیوں کی جگہ لفظ آگئے۔
ممبئی میں کتابیں ساتھ رہیں اور ترقی پسند ادیبوں اور تھیٹر والوں کی صحبت بھی ملی۔ انہی حلقوں کے ایک دوست نے انہیں عظیم ہدایت کار بمل رائے تک پہنچایا۔ ایک گیت لکھنے والے کی ضرورت تھی۔ نوجوان گلزار فلمی دنیا میں داخل ہوئے اور انگریزی محاورے کے مطابق ’ریسٹ از ہسٹری۔‘
فلمی دنیا نے انہیں خاندان بھی دیا۔ اداکارہ راکھی سے شادی ہوئی۔ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی، مگر گلزار اسے اپنی زندگی کی ’سب سے طویل مختصر کہانی‘ کہتے ہیں۔ ایک ٹُوٹے ہوئے رشتے کو بھی اس لطافت سے بیان کرنا شاید شاعر ہی کا کام ہے۔
بیٹی میگھنا کی پہلی سالگرہ سے تیرھویں سالگرہ تک گلزار نے ہر سال بیٹی کو ایک نئی کتاب لکھ کر اسے تحفے میں دی۔ 13 سال، 13 کتابیں، ننھی بیٹی کے لیے۔ راکھی کا ایک فقرہ گلزار آج بھی محبت سے دُہراتے ہیں: اگر تم شاعر نہ ہوتے تو خاصے عام سے آدمی ہوتے۔

ممبئی میں ایک دوست نے انہیں عظیم ہدایت کار بمل رائے تک پہنچایا اور یوں نوجوان گلزار فلمی دنیا میں داخل ہوئے (فائل فوٹو: وِکی پیڈیا)

سنہ 1999 میں گلزار نے فلموں کی ہدایت کاری چھوڑ دی اور خود کو زیادہ تر لکھنے اور شاعری کے لیے مختص کر دیا۔ فلمی گیت بھی اب انہی چند ہدایت کاروں کے لیے لکھتے ہیں جو شاعری کو سمجھتے اور انہیں آزادی دیتے ہیں۔
ایک بار بعض طالب علموں نے شکایت کی کہ شاعری نصابی کتابوں میں بند ہو کر رہ گئی ہے، روزمرہ زندگی سے اس کا رشتہ ٹُوٹ گیا۔ گلزار نے وعدہ کیا اور اسے نبھانے میں 10 برس لگا دیے۔ انڈیا کی قریباً تین درجن زبانوں کے لگ بھگ 300 ہم عصر شاعروں کا کلام جمع کرکے ’اے پوئم اے ڈے‘ کے نام سے ضخیم کتاب بنا دی۔
چند طالب علموں سے کیا ہوا وعدہ۔ 10 برس کی محنت۔ یہ ہے گلزار۔
گلزار 90 برس کی عمر تک ٹینس بھی کھیلتے رہے۔ اب اہم میچ دیکھتے ہیں۔ راجر فیڈرر کا ذکر آیا تو آنکھیں چمک اٹھیں اور اس کے ایک ہاتھ والے بیک ہینڈ شاٹ اور سوئنگ پر ایسے بات کرنے لگے جیسے کسی خُوب صورت مصرعے کی ساخت بیان کر رہے ہوں۔
گلزار 90 پلس ہونے کے بعد بھی نئی دنیا سے جُڑے ہوئے ہیں۔ نئی کتابیں پڑھتے، ناسا کی ویب سائٹ دیکھتے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی پیش رفت جاننا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں، آدمی کو خود کو تازہ رکھنا چاہیے، ورنہ زمانے سے پیچھے رہ جائے گا۔

طلوعِ آفتاب کے بارے میں گلزار کہتے ہیں کہ آسمان یوں کھلتا ہے جیسے کپڑے کا تھان کُھل رہا ہو (فائل فوٹو: پِکسابے)

یہ بات مجھے بہت اہم لگی۔ گلزار کے اندر کا بچہ صرف ماضی کی گلیوں میں نہیں گھومتا، وہ مستقبل کی کھڑکی سے بھی جھانکتا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کے نامہ نگار نے پوچھا کہ کیا اب بھی اپنا گاؤں یاد آتا ہے؟ گلزار نے سیدھا جواب نہیں دیا۔ بات جڑوں تک لے گئے۔ اُن جڑوں تک جو دکھائی نہیں دیتیں مگر آدمی کو زمین سے جوڑے رکھتی ہیں۔ پھر کہا کہ زندگی ہر لمحہ آپ کو چُھوتی ہوئی گزرتی ہے، یہ آپ پر ہے کہ آپ کے انٹینا کھلے ہیں یا نہیں۔
بات ہو رہی تھی کہ اچانک اُن کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ کوئی منظر اُن کے ذہن میں آیا۔ میز پر آگے جھکے اور ایک گرتے ہوئے پتے کا ذکر کرنے لگے۔ دیکھو، آرہا ہے، نیچے، اور نیچے، درخت سے گر رہا ہے۔ پھر اسی پتے کے بارے میں باآواز بلند سوچنے لگے۔ 
’اس تازہ پتے نے اپنی شاخ کیوں چھوڑی؟ عین اس لمحے میں جب وہ فضا میں ہے، نہ شاخ پر رہا، نہ زمین تک پہنچا۔ کیا اسے بھی دھرتی ماں کی طرف کوئی کشش لے جا رہی ہے جہاں اُس کی جڑیں ہیں؟‘
گلزار نے کہا کہ مجھے اس گرتے ہوئے پتے میں نظم نظر آتی ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کو نظر نہ آئے، مگر میں آپ کو اس کا احساس دلا سکتا ہوں۔ پھر اگلی بار آپ کوئی پتہ گرتا دیکھیں گے تو شاید ٹھٹک جائیں۔
یہ پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ شاید یہی آنکھ کا فرق ہے۔ ہمارے اردگرد بھی ہر روز یہی سب ہوتا ہے۔ بارش ہوتی ہے، بادل کبھی بھیڑوں جیسے بنتے ہیں، صبح آسمان کپڑے کے تھان کی طرح کھلتا ہے اور پتے شاخوں سے جُدا ہو کر نیچے آتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم جلدی میں ہوتے ہیں۔ اس سب پر نظر تو ڈالتے ہیں مگر شاید دیکھ نہیں پاتے۔
وقت نے گلزار کے بال سفید کر دیے، حیرت کا رنگ نہیں اُتار سکا۔ شاید اسی کا نام شاعر ہونا ہے۔ دنیا وہی ہے جو ہم سب دیکھتے ہیں، مگر شاعر کہیں ذرا زیادہ دیر دیکھ لیتا ہے۔ پھر ہمیں بھی آواز دے کر کہتا ہے: اِدھر دیکھو، یہاں بھی کچھ ہے۔
اسی لیے 92 برس کی عمر میں بھی گلزار کے اپنے لفظ ان ہی پر سب سے زیادہ صادق آتے ہیں: دِل تو بچہ ہے جی۔

شیئر: