Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کا غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ

وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے جامع منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے میں امریکہ کے کردار کو ناگزیر قرار دیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اُردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارأت کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ جامع منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرتے ہوئے جنگ بندی کی پاسداری یقینی بنائے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے 21 ستمبر کو نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی، جس میں غزہ کی صورتِ حال اور جامع منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔
مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ میں انسانی امداد اور ابتدائی بحالی کے لیے درکار سامان کی فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائے جبکہ اہم بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں بھی سہولت فراہم کرے۔
وزرائے خارجہ نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور اس کی تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ روڈ میپ غزہ جامع منصوبے کا لازمی حصہ ہے اور اس کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا کے ساتھ ساتھ اسلحے اور عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنا، بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی، غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی (این سی اے جی) کی پورے غزہ میں اپنی ذمہ داری ادا کرنا اور ابتدائی بحالی و تعمیرِ نو کا آغاز شامل ہے۔
آٹھوں ممالک نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنی متعلقہ ذمہ داریاں نیک نیتی سے اور بلا تاخیر پوری کریں۔
مشترکہ بیان میں فلسطینیوں کو اُن کے وطن سے بے دخل یا جبری طور پر منتقل کرنے کے کسی بھی اقدام کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کے علاقائی یا آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی کنٹرول اور الحاق کو مستحکم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع میں تیزی، اراضی پر قبضہ، فلسطینی گھروں کی مسماری، آبادکاروں کا تشدد اور دہشت گردی اور جبری بے دخلی شامل ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں اِن اقدامات کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ القدس میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے والے اسٹیٹس کو کو نقصان پہنچانے والے اقدامات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں کے خلاف برطانیہ کی جانب سے حالیہ اقدامات اور یورپی کوششوں کا خیرمقدم کیا، جن میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت روکنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بستیوں کی توسیع روکنے اور آبادکاروں کے تشدد پر جواب دہی یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔

آٹھوں مسلمان ممالک کے وزرائے خارجہ نے جنگ بندی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا (فائل فوٹو: روئٹرز)

بیان میں کہا گیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا لازمی حصہ رہنا چاہیے اور جامع منصوبے پر عمل درآمد سے مشرقی القدس سمیت مغربی کنارے، اور غزہ کی دوبارہ یکجائی میں مدد ملنی چاہیے۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور مشرقی القدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک خودمختار، قابلِ عمل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب قابل اعتماد اور ناقابل واپسی پیش رفت پر زور دیا، جس کے لیے دو ریاستی حل پر عمل درآمد ضروری قرار دیا گیا۔
آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے جامع منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے میں امریکہ کے کردار کو ناگزیر قرار دیا۔
انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سمیت تمام فریقوں کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور روڈ میپ پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹیں دُور کرنے کے لیے مسلسل اور فعال کردار ادا کرے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ زمینی سطح پر ٹھوس پیش رفت بورڈ آف پیس کی ساکھ اور منصوبے کے اختیار کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس عمل میں ضروری رفتار پیدا کرے گی۔
وزرائے خارجہ نے جامع منصوبے اور اس کے روڈ میپ پر مکمل عمل درآمد کے لیے امریکہ، بورڈ آف پیس، فلسطینی اتھارٹی اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرنے، ان کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے حق کو پورا کرنے اور خطے میں منصفانہ، پائیدار اور جامع امن قائم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

شیئر: