امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارت خانے کے سفیر فہد ناظر نے کہا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورۂ امریکہ سے دونوں ممالک کے درمیان ’دیرپا تعلقات کا نیا باب‘ کھلا ہے۔
عرب نیوز کے حالات حاضرہ کے پروگرام ‘فرینکلی سپیکنگ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے فہد ناظر نے ولی عہد کے دورۂ امریکہ کے دوران ہونے والے سٹریٹیجک دفاعی معاہدے، معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدان سمیت علاقائی تنازعات کے معاملے میں قریبی تعاون پر اتفاق جیسی پیش رفتوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’تاریخی‘ قرار دیے گئے اس دورے کے دوران دونوں ممالک کی 80 برس کی تاریخ کی حامل باہمی شراکت داری کے کم و بیش تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔
مزید پڑھیں
-
مملکت، جی 20 کے ساتھ شراکت داری کےلیے پر عزم: سعودی وزیرخارجہNode ID: 897529
-
ولی عہد کی سرپرستی میں ترقیاتی مالیاتی کانفرنس 9 دسمبر کو ہوگیNode ID: 897559
فہد ناظر نے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کو ’ہم جہت‘ قرار دیا اور کہا کہ اس دورے کے دوران کئی محاذوں پر سیاسی تعاون کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔
’مجھے یقین ہے کہ یہ دورہ دیرپا تعلقات کے نئے باب کا نکتۂ آغاز بنا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا بنیادی ستون باہمی تجارت ہے۔
فہد ناظر نے ‘فرینکلی سپیکنگ‘ کی میزبان کیٹی جینسن سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ فریقین کے لیے مفید تعلقات ہیں اور میں تو یہ کہوں گا کہ یہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھیں گے۔‘
معاشی میدان میں سب سے زیادہ بات سعودی عرب کے امریکہ میں 600 سے 1000 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ارادے پر ہو رہی ہے۔
جب سعودی سفارت خانے کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا علاقائی ترجیحات اور تیل کی قیمتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سرمایہ کاری آسانی سے ممکن ہو جائے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا خیال ہے کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اوول آفس میں یہ بات بالکل واضح الفاظ میں کہی تھی کہ یہ وعدے اور سرمایہ کاری ‘باہمی مفاد پر مبنی تعلقات‘ کے لیے ہیں۔
’جب معاشی پہلو کی بات ہو، جب تجارت کو دیکھا جائے اور جب سرمایہ کاری کا ذکر ہو تو یہ فریقین کے مشترکہ فائدے کے لیے ہی ہوتی ہے۔‘
دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود امریکی کمپنیوں بیکٹیل، پیپسی، جی ای اور جی ایم اور سعودی عرب میں تبدیلی کے عمل میں اہم کردار ادا کرنے والی نئی بڑی کمپنیوں ایمیزون، سسکو اور گوگل کا حوالہ دیتے ہوئے فہد ناظر نے کہا کہ یہ ماڈل ’کافی حد تک مستقل‘ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’امریکی کمپنیاں سعودی عرب آتی ہیں، دفاتر قائم کرتی ہیں، فیکٹریاں لگاتی ہیں، سعودیوں کو ملازمت دیتی ہیں، معلومات اور مہارت کا تبادلہ کرتی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جہاں تک ہمارا تعلق ہے، یہ سب کے لیے فائدہ مند ہے اور ہم یقیناً امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ صرف یک طرفہ خالص سرمایہ کاری نہیں ہے۔ یہ درحقیقت ایک طرح کی دو طرفہ تجارت، دو طرفہ سرمایہ کاری ہے جہاں ہمیں یقین ہے کہ آخر میں سب کو فائدہ ہوتا ہے۔‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کا وژن یہ ہے کہ نجی شعبہ داخلی ترقی اور غیرملکی سرمایہ کاری دونوں کو فروغ دے۔
’ہم چاہتے ہیں اور ہم نے پچھلے چند برسوں میں نجی شعبے کو بااختیار بنانے کی کوشش کی ہے‘ اور اہم شعبوں کو سپورٹ کرنے والے فنڈز جیسے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور ’قوانین کو ہموار بنانے‘ کی اصلاحات، سرمائے کو ’زیادہ سستا‘ بنانے اور غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے سعودی مارکیٹ میں داخل ہونا آسان بنانے کا حوالہ دیا۔
انہوں نے اسے ’وژن 2030 کا ایک بڑا حصہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ’مسلسل بڑھ رہی ہے‘ اور اس کا ’ایک بڑا فیصد امریکی کمپنیوں کی طرف سے جا رہا ہے یا یوں کہیں کہ آ رہا ہے۔‘
فہد ناظر نے یاد دلایا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے مئی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ مملکت کے دوران ’سعودی عرب میں کاروبار کرنے والی 1300 امریکی کمپنیوں‘ کا حوالہ دیا تھا۔ یہ ایک ایسی تعداد جس میں وہ توقع کرتے ہیں کہ ’وقت کے ساتھ ساتھ درحقیقت اضافہ ہو گا۔‘
فہد ناظر نے بڑی سعودی کمپنیوں آرامکو اور سیبک کا حوالہ بھی دیا جو ’ماضی کے برسوں کے دوران ترقی کرتی رہی ہیں اور مسلسل پھل پھول رہی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ تیزی سے پھیلتا ہوا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا شعبہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا ’ہم نے اپنے ایس ایم ای (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) اور شعبوں کو بااختیار بنایا ہے جن میں سے بہت سے خواتین نے قائم کیے ہیں۔ میرے خیال میں پچھلے سال ایس ایم ایز کا 40 فیصد خواتین نے قائم کیا تھا۔‘
’ہم تمام کاروباری لیڈرز کو بااختیار بنا رہے ہیں خواہ آپ کوئی چھوٹا کاروبار کرتے ہیں، خواہ آپ سعودی ملکیت والے ہیں یا آپ کے غیرملکی شراکت دار ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ سعودی کاروباری افراد میں ایک نئی عالمی سوچ اب واضح ہے۔
’اب کوئی بھی اپنی مقامی (سطح پر) نہیں سوچتا۔‘
ولی عہد کے حالیہ دورہ امریکہ کا ایک اہم ستون مملکت اور واشنگٹن کے درمیان دفاعی میدان میں تعاون تھا جس کے نتیجے میں ایک دفاعی معاہدہ ہوا اور امریکہ نے سعودی عرب کو ایک نان نیٹو اتحادی کا درجہ بھی دیا۔
فہد ناظر کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ’سکیورٹی اور فوجی تعاون دہائیوں سے ہمارے تعلقات کا اہم ستون ہے۔‘
’جب سٹریٹیجک، سکیورٹی اور عسکری امور کی بات آتی ہے تو امریکہ ایک مرتبہ پھر ہمارا سٹریٹیجک شراکت دار بن رہا ہے۔ اور اس معاہدے کے بعد ہم مل کر کام کریں گے اور ہم اپنے شہریوں اور سرحدوں کے تحفظ کو مزید یقینی بنائیں گے۔‘












