Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں ٹی20 ورلڈ کپ سے متعلق خدشات پر آئی سی سی تعاون کے لیے تیار: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ان دعووں کی بھی تردید کی ہے کہ انہیں آئی سی سی کی جانب سے کوئی الٹی میٹم دیا گیا ہے۔ (فوٹو: گوگل)
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 7 فروری سے انڈیا اور سری لنکا میں شروع ہونے والے 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش ٹیم کی 'مکمل اور بلا تعطل شرکت' کو یقینی بنانے کے لیے بورڈ کے ساتھ قریبی تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
بی سی بی نے بدھ کے روز ایک بیان جاری کیا، جو اس سے ایک شام قبل آئی سی سی کے ساتھ ہونے والی کال کے بعد سامنے آیا۔
اس کال میں انڈیا میں سکیورٹی خدشات کے باعث بنگلہ دیش کی جانب سے اپنے ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ میچز کھیلنے سے انکار اور میچز کی ممکنہ منتقلی پر بات چیت کی گئی۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بنگلہ دیش انڈیا میں کھیلے گا یا نہیں۔
بیان میں کہا گیا 'بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی کی جانب سے باضابطہ جواب موصول ہوا ہے، جو انڈیا میں آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے دوران بنگلہ دیش قومی کرکٹ ٹیم کی حفاظت اور سکیورٹی سے متعلق بورڈ کے اظہارِ تشویش، بشمول ٹیم کے میچز کی منتقلی کی درخواست کے حوالے سے ہے۔'
'اپنے پیغام میں آئی سی سی نے ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش ٹیم کی مکمل اور بلا تعطل شرکت کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ آئی سی سی نے بی سی بی کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ اٹھائے گئے خدشات کا حل نکالا جا سکے، اور یقین دہانی کرائی ہے کہ ایونٹ کے لیے تفصیلی سکیورٹی منصوبہ بندی میں بورڈ کی آرا کو خوش آمدید کہا جائے گا اور مناسب طور پر مدِنظر رکھا جائے گا۔'
ای ایس پی این کرک اِنفو نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کی میچز کی منتقلی کی درخواست مسترد کر دی ہے اور یہ کہ اگر بنگلہ دیش نے انڈیا میں کھیلنے سے انکار کیا تو اسے پوائنٹس سے محروم کر دیا جائے گا۔
بنگلہ دیش گروپ سی میں شامل ہے اور اس کے پہلے تین میچ کولکتہ میں شیڈول ہیں جن میں 7 فروری  کو ویسٹ انڈیز کے خلاف، 9 فروری کو اٹلی کے خلاف اور 14 فروری  کو انگلینڈ کے خلاف، جبکہ آخری گروپ میچ 17 فروری کو ممبئی میں نیپال کے خلاف میچز شامل ہیں۔
پوائنٹس کی ضبطی عملی طور پر بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دے گی، ایسی صورت میں یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ آئی سی سی کسی متبادل ٹیم کو شامل نہیں کرے گی۔
تاہم بی سی بی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ آئی سی سی نے اسے کسی قسم کا الٹی میٹم دیا ہے۔
بی سی بی کے مطابق 'بورڈ نے میڈیا کے ایک حصے میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کا بھی نوٹس لیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس معاملے پر بورڈ کو الٹی میٹم دیا گیا ہے۔ بی سی بی واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ یہ دعوے سراسر غلط، بے بنیاد ہیں اور آئی سی سی کی جانب سے موصول ہونے والی بات چیت کی نوعیت یا مواد کی عکاسی نہیں کرتے۔'
بیان میں مزید کہا گیا 'بورڈ آئی سی سی اور متعلقہ ایونٹ حکام کے ساتھ تعمیری، تعاون پر مبنی اور پیشہ ورانہ انداز میں رابطہ جاری رکھے گا تاکہ ایک خوشگوار اور عملی حل تک پہنچا جا سکے، جو آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں ٹیم کی ہموار اور کامیاب شرکت کو یقینی بنائے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بنگلہ دیش قومی کرکٹ ٹیم کی حفاظت، سکیورٹی اور فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دینے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔'
بنگلہ دیش کے انڈیا میں کھیلنے سے انکار کا معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کو ہدایت کی کہ وہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو 2026 کے سکواڈ سے ریلیز کر دے، تاہم اس کی عوامی طور پر کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان بگڑتے تعلقات کے تناظر میں سامنے آیا۔

شیئر: