Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نئی ٹیمیں مہنگی اور پرانی سستی کیوں؟ پی ایس یل کا پورا مالی ڈھانچہ سمجھیے

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تاریخ میں سیالکوٹ اور حیدرآباد کی ٹیمیں سب سے مہنگی فروخت ہوئی ہیں۔
جمعرات کو پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم یعنی حیدر آباد ایف کے ایس گروپ نے ایک ارب 75 کروڑ(6.2 ملین ڈالرز) جبکہ سیالکوٹ کی ٹیم او زی گروپ نے ایک ارب 85 کروڑ روپے (6.5 ملین ڈالرز) میں خریدی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے سوالات اٹھائے جار رہے ہیں۔ کچھ کرکٹ فینز کا سوال ہے کہ پی ایس ایل کی پرانی ٹیموں کے مقابلے میں نئی ٹیمیں اتنی زیادہ مہنگی کیوں ہیں یعنی پرانی ٹیمیں اتنے سستے داموں کیوں بیچی گئی تھیں۔
ان سوالات کے جوابات سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پی ایس ایل کی پرانی ٹیمیں کتنے میں بیچی گئی تھیں اور پوری پی ایس ایل لیگ کام کیسے کرتی ہے۔

پی ایس ایل کی پرانی ٹیموں کی قیمت کیا ہے؟

سنہ 2016 میں جب پی ایس ایل کا آغاز ہوا تو بنیادی طور پر پانچ ٹیمیں شامل تھیں پھر سنہ 2018 میں مزید ایک ٹیم کا اضافہ ہوا۔
ایی ایس پی این کرک انفو کے مطابق لاہور قلندرز 2.3 ملین ڈالر، کراچی کنگز 2.2 ملین ڈالر، پشاور زلمی 1.7 ملین ڈالر، اسلام آباد یونائیٹڈ 1.7 ملین ڈالر، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 1.7 ملین ڈالر اور ملتان سلطانز 6.3 ملین ڈالر میں فرخت ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ وہ رقم ہوتی ہے جو ایک سال کے دوران فرنچائزرز نے پی ایس ایل کو ادا کرنا ہوتی ہے۔
پی ایس ایل کیسے کام کرتی ہے؟

پی ایس ایل کی فرنچائز فیس کوئی مجموعی رقم یا قسطوں کا معاملہ نہیں بلکہ سالانہ فیس ہے جو ہر ٹیم کو ہر سال پاکستان کرکٹ بورڈ کو ادا کرنا ہوتی ہے۔
پی ایس ایل کسی نجی کمپنی کی لیگ نہیں بلکہ مکمل طور پر پی سی بی کی ملکیت ہے۔ لیگ کا برینڈ، میڈیا رائٹس اور سپانسرشپس سب پی سی بی کی ملکیت ہیں۔ لیگ میں شامل ٹیمیں پی ایس ایل کی مالک نہیں ہوتیں بلکہ وہ صرف لیگ میں شامل ہونے کا حق حاصل کرتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں پی سی بی ایک شاپنگ مال کا مالک ہے اور ٹیمیں اس میں موجود دکاندار ہیں۔
پی سی بی کی آمدن کے چار بڑے ذرائع ہیں جن میں سب سے اہم فرنچائز فیس ہے جو مکمل طور پر یقینی آمدن ہوتی ہے۔ پرانی ٹیموں سے تقریباً 11 سے 12 ملین ڈالر اور نئی ٹیموں یعنی حیدرآباد اور سیالکوٹ سے تقریباً 12.7 ملین ڈالر سالانہ آمدن حاصل ہو گی، یوں مجموعی فرنچائز فیس 24 سے 25 ملین ڈالر بنتی ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا رائٹس پی سی بی کی سب سے بڑی آمدن ہیں جن کے بعد مرکزی سپانسرشپس اور ٹکٹوں کی آمدن آتی ہے۔
ٹیموں کو براہِ راست میڈیا رائٹس نہیں ملتیں بلکہ پی سی بی کی جانب سے ریونیو شیئر دیا جاتا ہے جو میڈیا رائٹس اور سپانسرشپس سے حاصل شدہ آمدن سے بنتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیمیں اپنی جرسی اور سپانسرشپس خود بھی فروخت کرتی ہیں۔ پی ایس ایل جیتنے سے زیادہ مالی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اصل فائدہ شہرت اور برینڈ ویلیو کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

پی ایس ایل کی پرانی ٹیموں کی قیمت کم کیوں؟

پرانی ٹیمیں کم فیس اس لیے دیتی ہیں کیونکہ انہوں نے ابتدائی دور میں معاہدے کیے تھے جب پی ایس ایل نیا تھا اور رسک زیادہ تھا۔ اب جبکہ لیگ مستحکم ہو چکی ہے نئی ٹیموں سے مارکیٹ ریٹ وصول کیا جا رہا ہے۔ یہ نظام بظاہر غیر منصفانہ لگتا ہے مگر دنیا کی تمام بڑی لیگز میں ایسا ہی ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ نیلامی پاکستان کرکٹ کے مستقبل پر کیا گیا ایک مہنگا اعتماد ہے جس کا نتیجہ اگلے چند برسوں میں سامنے آئے گا۔

شیئر: