Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹی20 ورلڈ کپ: انڈیا کو جنوبی افریقہ سے شکست، ’پڑوس میں سارے زمین پر‘

انڈیا کے کپتان سوریا کمار یادو 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)
آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے تیسرے میچ میں جنوبی افریقہ نے انڈیا کو 76 رنز سے شکست دے دی ہے۔
اتوار کو احمد آباد میں کھیلے گئے میچ میں 188 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انڈیا کی ٹیم 19ویں اوور میں 111 رنز بنا کر ڈھیر ہوگئی۔
انڈیا کی بیٹنگ لائن جنوبی افریقہ کے بولرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی، چھ کھلاڑی ڈبل فیگر میں داخل نہ ہو سکے جبکہ تین صفر پر آؤٹ ہوئے۔
شیوم ڈوبے 42 رنز کے ساتھ نمایاں رہے جبکہ ہاردک پانڈیا اور کپتان سوریا کمار یادو 18، 18 رنز بنا سکے۔ ابھیشیک شرما 15 اور واشنگٹن سندر 11 رنز پر آؤٹ ہوئے۔ تلک ورما، ارشدیپ سنگھ  ایک، ایک جبکہ رنکو سنگھ، ایشان کشن اور جسپریت بمراہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔
انڈیا کے بیٹنگ آرڈر کی ناکامی پر سوشل میڈیا پر صارفین دلچسپ تبصروں کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستان کے سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے لکھا کہ ’جنوبی افریقہ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔‘
ساج صادق نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’سوریا کمار یادو، اُس ٹیم کے کپتان جسے 18.5 اوورز میں 111 رنز پر آؤٹ کر دیا گیا اور 76 رنز سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، کا کہنا ہے، ہم تھوڑی بہتر بیٹنگ کر سکتے تھے۔‘
شہزاد غیاث نے لکھا کہ ’میں تو صرف اس وجہ سے میچ دیکھ رہا تھا کہ سوریا کمار یادو کو میچ ہارتے دیکھ سکوں۔‘
سمیر نے لکھا کہ ’سوریا کمار یادو کے لیے افسوس ہوتا ہے۔ کوچ راہول ڈرائیوڈ شاید بس انہیں کہیں گے کہ آرام کریں اور اگلے میچ میں زیادہ مضبوط واپسی کریں۔‘
فرہاد جرال نے لکھا کہ ’انویشن، پاور، ٹیکنیک سب آج سندر پچھائی کو دکھا دیے، جب آپ ایک مضبوط ٹیم کے خلاف کھیلتے ہیں تو واقعی نہیں پتہ کہ کیسے کھیلنا ہے اور سب سے دلچسپ بات یہ کہ نریندر مودی سٹیڈیم میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔‘
عبدالغفار نے لکھا کہ ’پڑوس میں سارے زمین پر۔‘
مہیش نے لکھا کہ ’ایسا لگا کہ یہ میچ نہیں ہے بلکہ سزا ہے۔‘
اکشر نے لکھا کہ ’نریندر مودی سٹیڈیم کا نام اصل رکھیں، موٹیرہ، سردار والبھ بھائی پٹیل سٹیڈیم۔‘
عرفان پٹھان نے لکھا کہ ’آج ٹیم انڈیا کی کارکردگی واقعی مایوس کن رہی۔ بیٹنگ میں کمزوریوں کو جنوبی افریقی بولرز نے بے نقاب کر دیا، لیکن سچ کہوں تو یہ مسئلہ ورلڈ کپ کے دوران بار بار سامنے آ رہا ہے۔‘
پالی شکلا نے لکھا کہ ’ابھیشیک شرما صرف چھوٹے میچز اور دو طرفہ سیریز میں ہی بڑے کھلاڑی ہیں۔ انہیں بس یہی آتا ہے کہ بیٹ پھینکیں۔‘
فعد منور نے لکھا کہ ’ہار کے لیے سٹڈیم ذمہ دار تھا، کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ سٹیڈیم بھرا ہوا تھا مگر بالکل خاموش تھا۔‘

شیئر: