عماد وسیم کی الزامات پر باضابطہ وضاحت، سابق اہلیہ کو قانونی نوٹس ارسال
پاکستانی کرکٹر عماد وسیم نے اپنی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر باضابطہ طور پر خاموشی توڑ دی ہے۔
عماد وسیم کی قانونی ٹیم نے ثانیہ اشفاق کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عماد وسیم پر لگائے گئے ’الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں‘، اور اس سلسلے میں ثانیہ اشفاق کو باضابطہ قانونی نوٹس بھی ارسال کیا گیا ہے۔
مرتضی علی شاہ کی انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو کے مطابق، ایڈووکیٹ عالیہ زرین عباسی نے دعوی کیا کہ عماد وسیم کی قانونی ٹیم نے اس معاملے میں تمام ضروری میڈیکل ریکارڈز جمع کر لیے ہیں، جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ثانیہ اشفاق کا الزام کہ ’عماد وسیم نے ان پر زبردستی ابارشن کرایا، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔‘
ایڈووکیٹ عالیہ زرین عباسی نے کہا کہ نومبر 2023ء میں ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکا روانگی کا فیصلہ میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے کیا گیا تھا، جس کی تصدیق متعلقہ ڈاکٹرز بھی کر سکتے ہیں۔ ’نومبر 2023ء میں متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے دوروں کا مکمل ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے جو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ نومبر 2024ء میں باہمی اختلافات کے باعث دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی تھی، اس وقت ثانیہ اشفاق حاملہ تھیں، لہٰذا بچے کی پیدائش تک انتظار کیا گیا۔
وکیل کا کہنا ہے کہ اس دوران تمام اخراجات عماد وسیم نے خود برداشت کیے، اور جولائی 2025ء میں بیٹے کی ولادت کے بعد تینوں بچوں کی تمام ذمہ داریاں بھی عماد وسیم ہی ادا کر رہے ہیں۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ اگر کسی کے پاس اس مؤقف کے برعکس کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالت میں پیش کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے حال ہی میں سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے شادی کی ہے، جس کے بعد ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے شدید نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔
ثانیہ اشفاق نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 میں ان کا زبردستی ابارشن کرایا گیا، جس کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس معاملے پر آواز اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم بھی چلائی گئی۔
دوسری جانب یہ خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جہاں کچھ مداح انصاف کے حصول اور خاندان کی نجی زندگی کی حفاظت کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہیں کچھ لوگ قانونی پیشرفت کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ دونوں طرف سے پیش کیے جانے والے ’ثبوت‘ عوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔