Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹی20 ورلڈ کپ: زمبابوے اور انڈیا کا اہم میچ، سیمی فائنل کی امیدیں اور اپ سیٹ کا خوف

جنوبی افریقہ کے خلاف شکست نے انڈیا کی سیم فائنل تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں آج ایک ایسا مقابلہ کھیلا جا رہا ہے جس میں شکست کسی ایک ٹیم کے سیمی فائنل خواب کو تقریباً ختم کر سکتی ہے۔ انڈیا اور زمبابوے آمنے سامنے ہیں اور دونوں کے لیے یہ میچ 'کرو یا مرو' کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
دونوں ٹیموں نے اس ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کا آغاز مایوس کن انداز میں کیا تھا۔ نیٹ رن ریٹ کی صورتحال بھی ان کے حق میں نہیں۔ ایسے میں چنئی کے ایم اے چدمبرم سٹیڈیم میں ہونے والا یہ مقابلہ ان ٹیموں کی قسمت کا رخ موڑ سکتا ہے۔
انڈیا کی نظریں ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والے میچ پر بھی ہوں گی۔ انڈیا چاہے گا کہ جنوبی افریقہ جیتے جبکہ زمبابوے ویسٹ انڈیز کی کامیابی کا خواہاں ہوگا، کیونکہ اس نتیجے کا سیمی فائنل کی دوڑ پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
تاہم اصل فیصلہ اسی میچ میں ہونا ہے۔ دونوں ٹیمیں شکست کی متحمل نہیں ہو سکتیں، لیکن دباؤ سب سے زیادہ انڈیا پر ہے۔ زمبابوے پہلے ہی آسٹریلیا کو اپ سیٹ کر چکا ہے اور سری لنکا کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست دے کر اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکا ہے۔
اگر وہ یہاں سے باہر بھی ہو جائیں تو ان کی کارکردگی کو سراہا جائے گا۔ انڈیا کے لیے معاملہ مختلف ہے۔ اس ٹیم سے توقعات غیر معمولی ہیں۔ انڈیا اس فارمیٹ میں مضبوط ترین ٹیموں میں شمار ہوتی ہے مگر اس ورلڈ کپ میں ان کی بیٹنگ توقعات پر پوری نہیں اتر سکی، حتیٰ کہ جنوبی افریقہ کے خلاف شکست نے ان کی مشکلات بڑھا دیں۔

رواں ٹی20 ورلڈ کپ میں زمبابوے کی سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف فتح نے ان کو بہتر پوزیشن فراہم کر دی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انڈین بیٹنگ لائن اپ کی ناکامی ہی زمبابوے کی سب سے بڑی امید ہے۔ اگر بلیسنگ مزاربانی نئی گیند سے جلدی وکٹیں لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور کپتان سکندر رضا اپنی منفرد آف سپن سے دباؤ بڑھاتے ہیں تو مقابلہ دلچسپ ہو سکتا ہے۔
انڈیا کے لیے جسپریت بمراہ ایک بار پھر کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے خلاف 3 وکٹوں کے عوض صرف 15 رنز دینا ان کی شاندار فارم کا تسلسل تھا، اگرچہ ٹیم کو شکست ہوئی۔ اس ٹورنامنٹ میں ان کا اوسط 9.85 اور اکانومی ریٹ 5.30 رہا ہے، اور انڈیا کو ایسے ہی جادوئی سپیل کی ضرورت ہے۔
زمبابوے کے اوپنر تاڈیواناشے مارومانی نے اگرچہ کوئی بڑی اننگز نہیں کھیلی، مگر پاور پلے میں ان کی جارحانہ بیٹنگ نے ٹیم کو مستحکم آغاز فراہم کیا ہے۔ چار اننگز میں ان کے سکور 21، 35، 34 اور 14 رہے ہیں جبکہ سٹرائیک ریٹ 157 سے زائد ہے۔ ان کا ریورس سویپ خاص طور پر مؤثر رہا ہے۔ کپتان سکندر رضا کو امید ہے کہ وہ کسی بڑے میچ میں میچ وننگ کارکردگی دکھائیں گے۔
Tadiwanashe Marumani got going early in the chase, Sri Lanka vs Zimbabwe, T20 World Cup 2026, Colombo (RPS), February 19, 2026
اس ٹورنامنٹ میں زمبابوے کی جانب سے پاور پلیز میں تاڈیواناشے مارومانی بہتر ثابت ہوئے ہیں۔ (فوٹو: آئی سی سی، گیٹی ایمجز)

ٹیم کمبی نیشن کے حوالے سے انڈیا میں تبدیلیوں کا امکان ہے۔ سنجو سیمسن کو شامل کرنے پر غور ہو رہا ہے جبکہ اکشر پٹیل کی واپسی بھی متوقع ہے۔ چنئی کی اس پچ پر، جو اس ورلڈ کپ میں بیٹنگ کے لیے سازگار ثابت ہوئی ہے، انڈیا کلدیپ یادیو کو بھی موقع دے سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیپوک، جو کبھی سپنرز کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، اس بار بیٹنگ کے لیے بہترین گراؤنڈ ثابت ہوا ہے جبکہ تیز گیند بازوں کو خاصی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بمرا اور رچرڈ نگاراوا ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ 12، 12 میڈن اوور کرنے والے باؤلرز میں شامل ہیں۔ سکندر رضا ٹی 20 انٹرنیشنل میں 3 ہزار رنز مکمل کرنے والے زمبابوے کے پہلے بیٹر بننے سے صرف 15 رنز دور ہیں۔ رائن برل 2 ہزار رنز کے سنگِ میل کے قریب ہیں۔
دونوں ٹیمیں اس سے قبل ٹی 20 ورلڈ کپ میں صرف ایک بار مدِمقابل آئی ہیں، جب 2022 میں میلبرن میں سوریہ کمار یادیو کی 25 گیندوں پر ناقابلِ شکست 61 رنز کی اننگز نے انڈیا کو 71 رنز سے فتح دلائی تھی۔
آج کا مقابلہ صرف ایک میچ نہیں بلکہ دباؤ، توقعات اور موقع سے بھرپور ایک امتحان ہو سکتا ہے۔ زمبابوے بے خوف ہو کر کھیلے گا، جبکہ انڈیا کو اپنی ساکھ اور سیمی فائنل کی امیدیں بچانے کے لیے ہر شعبے میں بہترین کارکردگی دکھانا ہوگی۔

شیئر: