Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مہنگا ترین فیول: ہائی آکٹین کس کے لیے لازمی، کس کے لیے نہیں؟

ترقی یافتہ ممالک میں ہائی آکٹین زیادہ تر خاص یا طاقتور گاڑیوں کے لیے ہوتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس وقت تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کی وجہ سے گاڑی اور موٹر سائیکل چلانے والے تمام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
وفاقی حکومت نے اب ہائی آکٹین کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد یہ فیول بھی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
اس صورتحال میں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہائی آکٹین کیا ہے، کن گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اور پھر یہ جاننا بھی اہم ہے کہ شہری کون سی گاڑیاں استعمال کریں جو کم پٹرول خرچ کریں۔
واضح رہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے ہائی آکٹین پر لیوی میں تقریباً 200 روپے کا اضافہ کیا ہے اور اسے 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دیا ہے، جس کے بعد ہائی آکٹین کی قیمت 535 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام بڑی گاڑیاں استعمال کرنے والے صارفین پر اثر ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ نچلی آمدنی والے طبقے کو مالی طور پر بچایا جا سکے۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔
اس حوالے سے کابینہ ڈویژن نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انتہائی ناگزیر حالات میں ہائی آکٹین استعمال کرنا پڑے تو افسران اسے اپنی جیب سے خریدیں گے۔

اگر انتہائی ناگزیر حالات میں ہائی آکٹین استعمال کرنا پڑے تو افسران اسے اپنی جیب سے خریدیں گے (فوٹو: اے ایف پی)

 ہائی آکٹین کیا ہے اور یہ کس طرح بنتا ہے؟
ہائی آکٹین یا پریمیئم فیول بھی اصل میں خام تیل (کروڈ آئل) سے تیار ہوتا ہے، جیسے عام پیٹرول بنتا ہے۔ فرق صرف اس کی پروسیسنگ، صفائی اور معیار میں ہوتا ہے۔
ریفائنریز میں کروڈ آئل کو پیٹرول کی شکل دی جاتی ہے اور پھر مختلف کیمیکلز کے ذریعے اس کی آکٹین ریٹنگ بڑھائی جاتی ہے۔ ان کیمیکلز کا کام یہ ہے کہ فیول کو جلدی جلنے سے روکا جائے اور انجن میں کنٹرول کے ساتھ جلنے کی صلاحیت دی جائے۔
یہاں آکٹین وہ نمبر یا ریٹنگ ہے جو بتاتی ہے کہ پٹرول انجن میں کتنے کنٹرول کے ساتھ جلتا ہے۔ یعنی یہ پیٹرول کی وہ صلاحیت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنی مزاحمت اور کنٹرول کے ساتھ جلتا ہے۔
ہائی آکٹین میں آکٹین ریٹنگ زیادہ ہوتی ہے، عام طور پر 95 یا اس سے اوپر۔ یہ مہنگا فیول ہے جو انجن میں جلدی نہیں جلتا بلکہ کنٹرول کے ساتھ جلتا ہے، جس سے انجن میں ناکنگ (کھٹ کھٹ) نہیں ہوتی اور گاڑی ہموار چلتی ہے۔

ہائی آکٹین یا پریمیئم فیول بھی اصل میں خام تیل (کروڈ آئل) سے تیار ہوتا ہے، جیسے عام پیٹرول بنتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان میں ہائی آکٹین کا استعمال
پاکستان میں عام طور پر ہائی آکٹین فیول صرف بڑی یا طاقتور گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ عام گاڑیاں، جیسے ٹویوٹا کرولا یا سوزوکی کی چھوٹی گاڑیوں  میں عموماً ہائی آکٹین یا پریمیئم فیول کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان میں ٹربو والی گاڑیاں جیسے ہیول، ایم جی، چنگان) یا مہنگی امپورٹڈ گاڑیاں جیسے بی ایم ڈبلیو، مرسڈیز میں زیادہ تر پریمیئم فیول استعمال ہوتا ہے۔
پاکستان کے برعکس، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہائی آکٹین کا معاملہ مختلف ہے۔ وہاں عام پیٹرول بھی معیار کے لحاظ سے بہت صاف اور اعلیٰ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر گاڑیاں نارمل پیٹرول پر بغیر کسی مسئلے کے چل سکتی ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں ہائی آکٹین زیادہ تر خاص یا طاقتور گاڑیوں کے لیے ہوتا ہے، عام گاڑیوں کے لیے ضروری نہیں۔ تاہم وہاں کے عام پٹرول کی کوالٹی اتنی اچھی ہوتی ہے کہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔
ہائی آکٹین مہنگا کرنے سے کیا بچت ہوگی؟
اس سوال کے جواب میں آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹڈ ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف، میاں شعیب نے بتایا کہ حکومت کا فیصلہ محض رسمی اقدام ہے اور اس سے پٹرولیم مصنوعات کے بجٹ پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔
ان کے مطابق، پاکستان میں زیادہ تر ہائی آکٹین صرف ٹربو یا امپورٹڈ گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے اور ان گاڑیوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں کہ اس پابندی کا کوئی قابل ذکر اثر ہو۔

Caption

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کو زیادہ توجہ اپنے اخراجات میں کمی پر مرکوز کرنی چاہیے اور سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال کو روکنا چاہیے۔
میاں شعیب کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے سب سے بہتر حل یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھایا جائے تاکہ ذاتی گاڑیوں میں سفر کم ہو اور فیول کی بچت ممکن ہو۔
کم فیول والی گاڑیوں کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ہائبریڈ یا چینی گاڑیاں بھی فیول کے لحاظ سے ایک متبادل ہو سکتی ہیں، لیکن مارکیٹ میں ان کی افٹر مارکیٹ قیمتیں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو خریداری اور دیکھ بھال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اُنہوں نے آخر میں بتایا کہ مقامی سوزوکی اور دیگر چھوٹی گاڑیاں فیول کی بچت کے لحاظ سے زیادہ مؤثر نہیں ہیں۔
’فیول کی حقیقی بچت کے لیے عوام اور حکومت دونوں کو اپنی عادات بدلنی ہوں گی اور گاڑیوں کے استعمال کو کم سے کم کرنا ہوگا۔‘
ماہرین کی رائے
گاڑیوں کے ریویو کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’پاک گیئر‘ کے بانی، آٹوموبائل ایکسپرٹ مہران خان سہگل کا کہنا ہے کہ عام طور پر یورپ میں تمام جرمن گاڑیاں نارمل پٹرول پر چلتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہاں پٹرول میں موجود ملاوٹ اور معیار کے فرق کی وجہ سے ان میں ہائی آکٹین ڈالنا ضروری ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیاں جیسے ایم جی اور چیری نسبتاً زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور انجن کبھی کبھار کھردرا چلتا ہے جبکہ ہیول اور چنگان میں اس معاملے میں نسبتاً زیادہ برداشت پائی جاتی ہے۔

ہائی آکٹین استعمال نہ کرنے سے ٹربو گاڑیاں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

مہران سہگل کے مطابق اسی وجہ سے پاکستان میں فراہم کی جانے والی گاڑیوں کے کمپریشن ریشو مختلف رکھے جاتے ہیں تاکہ مقامی فیول کے معیار کے مطابق انجن کو ایڈجسٹ کیا جا سکے جبکہ مقامی طور پر سوزوکی، ہنڈا اور ٹویوٹا نے اس معاملے پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے، خاص طور پر وہ گاڑیاں جن میں ٹربو انجن نہیں ہوتا۔
ان کے خیال میں ہائی آکٹین استعمال نہ کرنے سے ٹربو گاڑیاں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ کم معیار کا فیول قبل از وقت جلتا ہے، جس سے انجن میں ناکنگ پیدا ہوتی ہے اور آخرکار انجن خراب ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، کِیا موٹرز نے اپنے صارفین کے لیے جاری ایک اعلامیے میں بتایا ہے کہ کیا گاڑیاں اس طرح ڈیزائن اور ٹیسٹ کی گئی ہیں کہ وہ کم از کم آر او این 91 پلس آکٹین والے غیر لیڈڈ فیول پر مؤثر طریقے سے چل سکیں۔
ان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، ’صارفین بلا خوف و خطر آر او این 92 فیول استعمال کر سکتے ہیں، جو پاکستان میں وسیع پیمانے پر دستیاب ہے، اور اس سے گاڑی کی کارکردگی یا اعتمادیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیا گاڑیوں میں ہائی آکٹین فیول استعمال کرنا ضروری نہیں ہے۔‘
’صارفین بلا خوف و خطر آر او این 92 فیول استعمال کر سکتے ہیں اور کیا گاڑیوں میں ہائی آکٹین فیول کا استعمال ضروری نہیں ہے۔‘
تاہم کمپنی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ فیول صرف قابلِ اعتماد اور معتبر سٹیشنز سے ہی بھروائیں، جہاں فیول صاف اور ملاوٹ سے پاک ہو۔

شیئر: