گھڑی نے جیسے ہی 12 کا ہندسہ چھوا، بدھ کا دن شروع ہو چکا تھا جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن اپنے اختتامی لمحات میں داخل ہو رہی تھی۔
پاکستانی وقت کے مطابق 8 اپریل کی صبح پانچ بجے یہ مہلت ختم ہونا تھی، اور دنیا کو اب بھی ان کی وہ آخری پوسٹ یاد تھی جس میں ایک پوری تہذیب کے خاتمے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
تہذیب کے خاتمے کی دھمکی کی وجہ سے فضا بے یقینی اور خدشات سے بھری ہوئی تھی۔
عالمی برادری سانس روکے بیٹھی تھی۔ ہر آنکھ کسی بڑے اعلان، کسی ممکنہ تصادم یا کسی غیر متوقع پیش رفت کی منتظر تھی مگر کیا ہونے والا ہے، اس کا یقین کسی کو نہیں تھا۔
8 اپریل کا دن شروع ہوئے محض 17 منٹ ہی گزرے تھے کہ ایک غیر متوقع پیش رفت نے اس جمود کو توڑ دیا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ نے جیسے منظرنامہ یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اس مختصر مگر غیر معمولی اہمیت کی حامل پوسٹ میں ایران سے دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کی درخواست کی گئی، جبکہ صدر ٹرمپ سے مہلت میں دو ہفتے کی توسیع کی اپیل کی گئی۔
Diplomatic efforts for peaceful settlement of the ongoing war in the Middle East are progressing steadily, strongly and powerfully with the potential to lead to substantive results in near future. To allow diplomacy to run its course, I earnestly request President Trump to extend…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 7, 2026
یہ محض ایک بیان نہیں تھا، یہ ایک سفارتی اشارہ تھا، ایک ممکنہ راستہ تھا، ایک ایسی پیشکش تھی جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بیچ ایک وقفہ، ایک سانس، ایک موقع فراہم کر سکتی تھی۔
اس کے بعد خبریں تیزی سے گردش کرنے لگیں۔ قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگیں، تجزیے سامنے آنے لگے، اور تجسس اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ عالمی میڈیا اس پیش رفت کو فوری طور پر زیر بحث لانے لگا، جبکہ وائٹ ہاؤس بھی اس پیغام سے باخبر ہو چکا تھا۔
جلد ہی امریکی میڈیا میں صدر ٹرمپ کے فوکس نیوز کو دیے گئے ابتدائی ردعمل کی بازگشت سنائی دینے لگی، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ شہباز شریف کو جانتے ہیں اور انہیں ایک اچھا انسان سمجھتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر سادہ تھا، مگر اس کے سفارتی اثرات گہرے تھے۔
سوشل میڈیا پر بھی منظر بدلنا شروع ہو گیا۔ جنگ کے خدشات اور خوف کی فضا میں تبدیلی محسوس ہونے لگی۔ بے یقینی کی جگہ ایک نئی امید نے لینا شروع کی۔ دنیا جیسے کسی مثبت خبر کی منتظر تھی اور پھر چند گھنٹوں بعد وہ لمحہ آ ہی گیا۔
صدر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر ایک نئی پوسٹ سامنے آئی، جس میں پیش رفت کے واضح اشارے موجود تھے۔ تقریباً اسی وقت ایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے بھی ایک بیان جاری ہوا، جس میں پاکستان کے کردار کو سراہا گیا اور اس کا شکریہ ادا کیا گیا۔
یوں ایک طویل، بے چین اور غیر یقینی رات کے بعد جنگ بندی کی خبر سامنے آئی۔ ایک ایسا موڑ جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر ابھرا ہے، اور اس کا ذکر عالمی بیانیے کا مرکزی حصہ بن چکا ہے۔
اب اس تمام تر صورتحال پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ایکس پر صارفین کا ردعمل تیزی سے سامنے آ رہا ہے، جہاں لوگ اس اچانک بدلتے منظرنامے پر اپنے خیالات، تجزیے اور جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ایک صارف نے صرف ایک جملے میں ہی منظر کشی کرتے ہوئے لکھا 'نریندر مودی، مئی 2025 میں ہم پر حملہ کرنے کا شکریہ۔'

معروف انڈین ریسرچر اور پروفیسر آشوک سوین نے صدر ٹرمپ کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ٹھیک 10 برس قبل اڑی واقعے کے بعد مودی نے پاکستان کو تنہا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ایک صارف نے لکھا ' اس وقت پاکستان کی دنیا کے لیے سب سے بڑی خدمات یہ ہیں، زبردست میمز، کوک سٹوڈیو اور عالمی امن۔'

حیدر عباسی نے شہباز شریف کی گانا گاتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'گریمی ایوارڈ اور نوبل امن انعام ایک ساتھ۔'

ایک اور صارف نے لکھا کہ شہباز شریف کے ایکس ہینڈل کے نام میں اب تک سی ایم لکھا ہوا ہے جس کا مطلب اب چیف میڈیئٹر بنتا ہے۔









