فیفا ورلڈ کپ 2026 میں منگل کو عراق اور ناروے کے درمیان کھیلے گئے میچ میں اگرچہ عراقی ٹیم کو 4-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس مقابلے نے پاکستانی فٹبال شائقین کو ایک خاص لمحہ دیا۔
عراق کے مڈفیلڈر زیدان اقبال میچ کے 59ویں منٹ میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آئے اور اس کے ساتھ ہی مردوں کے فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے پہلے پاکستانی نژاد فٹبالر بن گئے۔
مزید پڑھیں
بوسٹن میں کھیلے گئے اس میچ میں اس وقت تک ناروے نے مقابلے پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی، تاہم دنیا بھر میں موجود پاکستانی نژاد فٹبال شائقین کی توجہ سکور لائن سے زیادہ زیدان اقبال کی شرکت پر مرکوز تھی۔
ورلڈ کپ سے چند روز قبل ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے زیدان اقبال نے اپنی پاکستانی شناخت، خاندان اور فٹبال کے سفر کے بارے میں تفصیل سے بات کی تھی۔
زیدان اقبال نے کہا کہ ان کی والدہ عراقی جبکہ والد پاکستانی ہیں اور وہ بچپن سے دونوں ثقافتوں سے جڑے رہے ہیں۔
ان کے مطابق ان کے والد کا خاندان ان کے گھر کے بالکل قریب رہتا تھا جبکہ والدہ کے رشتہ دار بھی نزدیک ہی آباد تھے، اسی لیے وہ ہمیشہ اپنے پاکستانی اور عراقی پس منظر سے جڑے رہے۔
زیدان اقبال نے بتایا کہ وہ آج تک عراق نہیں جا سکے، تاہم وہ پاکستان آ چکے ہیں۔
’میں پاکستان گیا ہوں اور پہلی مرتبہ فٹبال کی وجہ سے وہاں جانے کا موقع ملا تھا۔ ہمیں چند روز ملے تھے جس میں ہم ملک کو دیکھ سکے اور پاکستان مجھے بہت خوبصورت لگا۔‘
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ عراق کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ان کا پاکستانی پہلو آج بھی ان کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
’میں اب بھی پاکستانی فٹبال کو فالو کرتا ہوں اور اپنی پاکستانی شناخت سے بہت جڑا ہوا ہوں۔‘
زیدان اقبال نے بتایا کہ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے پہلے پاکستانی نژاد فٹبالر بننے کے بارے میں انہیں خود بھی پہلے معلوم نہیں تھا۔
ان کے مطابق جب عراق نے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تو ان کے والد نے انہیں ایک سوشل میڈیا پوسٹ بھیجی جس میں اس اعزاز کا ذکر تھا۔
’میں نے پوسٹ دیکھی تو میری پہلی سوچ یہی تھی کہ واہ، یہ واقعی حیران کن بات ہے۔ بچپن میں آپ ایسی چیزوں کے بارے میں نہیں سوچتے، آپ صرف فٹبال کھیلنا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاکستانی والد نے ان کے فٹبال سفر میں بہت اہم کردار ادا کیا۔
زیدان اقبال کے مطابق ان کے والد نوجوانی میں ہاکی اور کرکٹ کھیلنا چاہتے تھے، تاہم ان کے دادا تعلیم کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔

’میرے دادا والد سے کہتے تھے کہ اگر اچھی تعلیم حاصل کر لو تو وہ کوئی نہیں چھین سکتا، لیکن کھیل میں چوٹ لگ سکتی ہے اور کیریئر ختم ہو سکتا ہے۔‘
تاہم زیدان کے مطابق ان کے والد چونکہ برطانیہ میں پلے بڑھے تھے اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ کھیل بھی ایک باقاعدہ پیشہ بن سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو فٹبال کھیلنے کی حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے بتایا کہ بچپن میں وہ اپنے والد کے ساتھ مقامی فٹبال میچز دیکھنے جایا کرتے تھے۔ بعد میں ایک پروگرام کے ذریعے ان کی صلاحیتوں پر مانچسٹر یونائیٹڈ کے سکاؤٹس کی نظر پڑی اور یوں ان کا فٹبال سفر آگے بڑھتا گیا۔
زیدان اقبال نے یہ بھی بتایا کہ ابتدا میں ایک مقبول عراقی سوشل میڈیا پیج نے ان سے رابطہ کیا تھا اور پوچھا تھا کہ کیا واقعی ان کی والدہ عراقی ہیں۔ بعد میں عراق فٹبال فیڈریشن کو بھی ان کے بارے میں معلوم ہوا اور پھر قومی ٹیم میں شمولیت کے لیے رابطے شروع ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں عراق کی انڈر 23 ٹیم کے ساتھ جانے پر انہیں ثقافتی فرق کا سامنا کرنا پڑا اور پہلے دورے میں وہ زیادہ لطف اندوز بھی نہیں ہوئے تھے۔
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے لوگوں کو بہتر طور پر سمجھا اور عراقی مداحوں کی محبت نے انہیں عراق کی نمائندگی کا فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا۔












