کیا چینی کا استعمال واقعی کینسر کا سبب بنتا ہے؟
بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ کینسر کے خلیات چینی استعمال کرتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سوشل میڈیا پر اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ چینی کا استعمال کینسر کا باعث بنتا ہے، تاہم کینسر کے مرض کے ایک ماہر نے اس تاثر کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سائنسی شواہد اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق کنسلٹنٹ سرجیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر ورتیکا وشوانی نے ایک ویڈیو میں وضاحت کی کہ چاکلیٹ، کیک، پیسٹری یا دیگر میٹھی اشیا کھانے سے براہِ راست کینسر ہونے کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
ان کے مطابق ’سوشل میڈیا پر صحت سے متعلق بہت سی غیر مصدقہ معلومات گردش کرتی ہیں، جن پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے بجائے سائنسی تحقیق کو ترجیح دینی چاہیے۔‘
ڈاکٹر ورتیکا نے بتایا کہ ’بعض لوگ پی ای ٹی سکین کی تصاویر کا حوالہ دے کر دعویٰ کرتے ہیں کہ کینسر کے خلیات چینی استعمال کرتے ہیں، اس لیے چینی کینسر کی خوراک ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام فعال خلیات توانائی کے لیے گلوکوز استعمال کرتے ہیں۔ دماغ، گردے اور آنتیں بھی اسی وجہ سے اسکین میں نمایاں نظر آتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی شخص چینی یا کاربوہائیڈریٹس مکمل طور پر ترک کر دے تو جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے عضلات اور دیگر بافتوں کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس لیے یہ تصور درست نہیں کہ چینی چھوڑ دینے سے کینسر کے خلیات مر جائیں گے۔‘
ماہرِ کینسر کے مطابق کینسر کے خلیات تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فاقہ کشی یا انتہائی پرہیز کینسر کا علاج بن سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ مریض کی صحت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے۔ زیادہ چینی، موٹاپا اور میٹابولک بیماریاں صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض میٹابولک امراض مستقبل میں کینسر کے خطرے میں اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ خطرہ مجموعی طرزِ زندگی سے جڑا ہوتا ہے، نہ کہ صرف چینی کے استعمال سے۔‘
ڈاکٹر ورتیکا کا کہنا تھا کہ ’متوازن غذا، پھل، ثابت اناج اور گھریلو کھانوں کو ترک کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’صحت مند زندگی کا راز اعتدال اور متوازن غذائی عادات میں پوشیدہ ہے، نہ کہ کسی ایک غذا کو تمام بیماریوں کی جڑ قرار دینے میں۔‘
