اگر آپ سے پوچھا جائے کہ ’منت‘، ’جلسہ‘، ’پرتیکشا‘، ’آشیرواد‘، ’واستو‘، ’گلیکسی‘، ’شِو شکتی‘، ’راماین‘ وغیرہ کیا ہیں اور ان میں کیا مماثلت ہے تو شاید آپ سوچ میں پڑ جائیں۔
لیکن اگر آپ بالی وڈ فلموں کے شیدائی ہیں تو شاید آپ کو یہ پتہ ہوگا کہ ’منت‘ شاہ رخ خان کے گھر کا نام ہے، ’جلسہ‘ اور ’پرتیکشا‘ امیتابھ بچن کے گھروں کا نام ہے، اسی طرح ’آشیرواد‘ راجیش کھنہ کے گھر کا نام ہوا کرتا تھا۔
گلیکسی کا تعلق سلمان خان سے ہے۔ کاجول اور اجے دیوگن کے گھر کا نام ’شو شکتی‘ ہے جبکہ شتروگھن سنہا کے گھر کا نام ’راماین‘ ہے۔
مزید پڑھیں
-
پونے کے لوہ گڑھ قلعے میں قتل:’وائرل پوسٹ اور شدید گرمی میں ہُڈی‘Node ID: 905754
لیکن آج ان سب کا تذکرہ کس لیے؟ بات در اصل یہ ہے کہ تقریباً 50 سال بعد اداکار سلمان خان شاید اپنے گلیکسی اپارٹمنٹ سے کہیں اور منتقل ہو رہے ہیں جبکہ 54 سال بعد ہیما مالنی اور دھرمیندر کے گھر کو ایک نیا نام ملا ہے اور یہ نام ایک معروف ہندو مذہبی شخصیت نے دیا ہے۔
ایسے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ممبئی کی چکاچوند میں ہر گھر صرف اینٹ اور پتھر کی عمارتیں نہیں ہوتے بلکہ بعض گھر وقت، محبت، فن اور یادوں کا ایسا خزانہ ہوتے ہیں جو کئی نسلوں کی کہانی اپنے اندر سمیٹے رہتے ہیں۔
اداکارہ ہیما مالنی کا ممبئی میں واقع 54 برس پرانا گھر بھی ایسا ہی ایک مسکن ہے، جس کے دروازے پہلی بار ان کی بڑی بیٹی اور اداکارہ ایشا دیول نے مداحوں کے لیے کھول دیے۔
’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق معروف یوٹیوب چینل ’کرلی ٹیلز‘ کو دیے گئے اس خصوصی ہوم ٹور نے صرف ایک فلمی ستارے کے گھر کی جھلک نہیں دکھائی بلکہ اس خاندان کی تہذیبی، ثقافتی اور جذباتی زندگی کی ایسی جھلک دکھائی جس سے شائقین پہلے نا واقف تھے۔
ایشا دیول نے بتایا کہ یہ بنگلہ تقریباً 54 برس سے ان کے خاندان کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے تک اس مکان کا کوئی باقاعدہ نام نہیں تھا اور لوگ اسے صرف ’ہیما مالنی کا بنگلہ‘ سے جانتے تھے۔
حال ہی میں روحانی پیشوا شری شری روی شنکر نے اس کا نام ’اَدوتیہ‘ رکھا ہے۔ یہ ایک سنسکرت لفظ ہے جس کا مطلب ’بے مثال‘، ’یگانہ‘ یا ’منفرد‘ وغیرہ ہے۔ ایشا کے مطابق ’یہ نام اس گھر کی شخصیت اور اس میں محفوظ یادوں کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔‘
گھر کے داخلی حصے میں داخل ہوتے ہی کلاسیکی رقص کی مختلف مدراؤں (پوز) کی کانسی کی خوبصورت مجسمہ نما تخلیقات نظر آتی ہیں، جو ہیما مالنی کی بھرت ناٹیم سے دیرینہ وابستگی کا اظہار کرتی ہیں۔ ہیما مالنی نے اداکاری کے ساتھ ساتھ کلاسیکی رقص کو ہمیشہ اپنی شناخت کا اہم حصہ بنایا اور آج بھی باقاعدگی سے ریاض کرتی ہیں۔

گھر کا سب سے دلکش حصہ اس کا وسیع ڈانس ہال ہے۔ لکڑی کے خصوصی فرش والا یہ ہال بیک وقت تقریباً 30 رقاصوں کی مشق کے لیے کافی ہے۔ ایشا نے بتایا کہ اس جگہ میں جوتے پہن کر داخل ہونا منع ہے کیونکہ یہ صرف ریاض ہی نہیں بلکہ عبادت، دھیان اور ثقافتی تقریبات کا بھی مرکز ہے۔
’دی اکانومک ٹائمز‘ کے مطابق ہیما مالنی آج بھی اسی ہال میں اپنے رقص کی مشق کرتی ہیں، جو ان کی فن سے وابستگی کی زندہ علامت ہے۔
اس گھر کا ایک نہایت جذباتی گوشہ ہیما مالنی اور دھرمیندر کے نام مخصوص ہے۔ یہاں دو مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں جن پر دونوں کی تصاویر والے کشن موجود ہیں۔ ایشا کے مطابق یہ گوشہ صرف ایک سجاوٹی حصہ نہیں بلکہ ان کے والدین کی طویل رفاقت اور محبت کی علامت ہے۔ گھر کی دیواریں گویا ان دونوں سپر سٹارز کی زندگی کے سنہرے لمحوں کی خاموش گواہ ہیں۔
گھر میں ایک علیحدہ حصہ ہے جو دفتر کے طور پر قائم ہے جہاں ہیما مالنی کے مداحوں کی جانب سے بھیجے گئے تحائف، نایاب تصویریں، پینٹنگز، فلموں کی یادگار اشیا اور مختلف اعزازات محفوظ ہیں۔ ’رضیہ سلطان‘ سمیت کئی کلاسیکی فلموں سے وابستہ تصاویر اس کمرے کو ایک چھوٹے سے فلمی عجائب گھر کا روپ دیتی ہیں۔
گفتگو کے دوران اداکارہ ایشا دیول نے ایک دلچسپ راز بھی بتایا کہ سنہ 2005 کے تباہ کن ممبئی سیلاب میں اصل بنگلے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس کے بعد اس کی بڑے پیمانے پر ازسرنو تعمیر کی گئی اور اب یہ کئی منزلہ عمارت بن چکا ہے، جہاں ہیما مالنی، ایشا دیول اور آہنا دیول کے لیے الگ الگ منزلیں مختص ہیں۔ ہر منزل کی سجاوٹ وہاں رہنے والے فرد کی شخصیت کے مطابق کی گئی ہے، لیکن پورے گھر میں فن اور ہندوستانی ثقافت کا رنگ یکساں طور پر نمایاں ہے۔













