سعودی فنکار جو لکڑی تراش کر جازان کی دیہی زندگی کو فن میں ڈھالتے ہیں
سعودی فنکار ضافی القلیبی 15 سال سے اس فن سے جڑے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
جازان کے علاقے میں زرعی اور دیہی روایات کو اجاگر کرنے والے لکڑی کے مجسمے اور فن پارے مقامی ورثے کو ایک جدید ترین فنکارانہ انداز میں زندہ کر رہے ہیں جو روایتی ہل، گھریلو برتنوں اور روزمرہ کے اوزاروں کو خوبصورت فن پاروں میں تبدیل کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) یہ فن پارے سعودی فنکار ضافی القلیبی کے 15 سالہ فنکارانہ سفر کی عکاسی کرتے ہیں جو جازان کے دیہی اور ساحلی ماحول میں پروان چڑھے ہیں۔
وہ مقامی لکڑی کی ساخت اور روایتی کندہ کاری کو جدید نقش و نگار میں مہارت کے ساتھ تراشتے ہیں۔ لکڑی کے ایک ہی فن پارے کی دستکاری میں چھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے تاکہ مقامی لوگوں اور ان کی زمین کے درمیان قائم دیرینہ رشتے کو حقیقی روپ دیا جا سکے۔
الکلیبی نے بتایا کہ ان کے فن کا مقصد علاقائی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے ایسے جدید انداز میں پیش کرنا ہے جو عصری آرٹ گیلریوں اور نجی مجموعوں کے لیے موزوں ہو۔
ان کے فن پاروں نے مقامی نمائشوں میں نمایاں توجہ حاصل کی ہے جو ثقافتی ورثے پر مبنی فنون میں عوامی دلچسپی بڑھنے کی عکاسی کرتا ہے۔

اس فن کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے، القلیبی نئے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو تربیت دے رہے ہیں اور مشغلے پر مبنی قومی پورٹل ’حاوی‘ کے تحت مجسمہ سازی کے ایک مخصوص کلب کے قیام کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے جہاں مقامی فنکار ایک دوسرے کے ساتھ تجربات کا تبادلہ کر سکیں اور اپنی مہارت کو مزید نکھار سکیں۔
