کھچوؤں کی دیکھ بھال اور قدرتی مسکن کے لیے ’شمس کا نمایاں کردار‘
پھنسے ہوئے کچھوؤں کے لیے 24 گھنٹے کام کرنے والا ایک رسپانس نیٹ ورک بھی فعال کیا گیا (فوٹو: ایس پی اے)
جنرل آرگنائزیشن فار کنزرویشن آف کورل ریفس اینڈ ٹرٹلز ان دی ریڈ سی (شمس) سمندری کچھوؤں کے تحفظ اور ان کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ کام ایک ایسے نظام کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو ریسکیو اور دیکھ بھال، مسکن کی حفاظت، سائنسی تحقیق اور قومی صلاحیتوں کی تعمیر کو یکجا کرتے ہوئے مخصوص ماحولیاتی کام کے لیے ایک نمونے کا کردار ادا کرتا ہے۔
تنظیم کی کوششوں نے کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے مشرق وسطیٰ کے پہلے مخصوص سمندری کچھوؤں کی دیکھ بھال کے سینٹر کو شروع کرنے میں مدد کی۔ یہ سینٹر معیاری علاج کے طریقوں پر عمل کرتا ہے اور اس نے چار ایسے علاج اور تشخیص کے طریقے تیار کیے ہیں جو سمندری کچھوؤں کی دیکھ بھال میں پہلی بار دنیا بھر میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پھنسے ہوئے کچھوؤں کے لیے 24 گھنٹے کام کرنے والا ایک رسپانس نیٹ ورک بھی فعال کیا گیا۔ اس نے 2026 میں 136 کیسز پر کام کیا جس سے 2024 سے اب تک نمٹے گئے کل کیسز کی تعداد 300 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اس پروگرام کے تحت 94 کچھوؤں کا علاج کیا گیا ہے جن میں سے 74 کو ان کے قدرتی مسکن میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف سروس سہولیات سے 20 سمندری کچھوؤں کو ریسکیو کر کے ان کی دیکھ بھال کی گئی ہے۔
مسکن کی حفاظت کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، شمس نے 2200 سے زیادہ ساحلوں کا سروے کرکے سمندری کچھوؤں کے گھونسلے بنانے کی جگہوں کا ایک قومی بنیادی اندازہ مکمل کیا ہے۔ اس اندازے میں 638 سائٹس کی نشاندہی کی گئی جن میں 23 اہم سائٹس شامل ہیں جو تقریباً 40 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر گھونسلے بنانے کی تقریباً 70 فیصد سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی درجہ بندی کے مطابق ایک ماحولیاتی انتظامی منصوبہ بھی تیار اور منظور کیا گیا ہے۔
تنظیم کی کامیابیوں میں فور سسٹرز آئی لینڈز پر گھونسلے بنانے کی ایک سائٹ کی دریافت شامل تھی جو گرین اور ہاکسبل کچھوؤں کے لیے سعودی سمندری حدود میں سب سے بڑی معلوم سائٹ ہے۔ اس دریافت کے بعد ان کے مسکن کے سروے کے لیے سات فیلڈ مشنز بھیجے گئے۔
تنظیم ان 23 اہم سائٹس کو ریڈ سی کے ساتھ ایک متحد نگرانی کے پروگرام کے تحت لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ ینبع میں گھونسلے بنانے کی ایک بڑی سائٹ کی بحالی اور سیمنٹ کی دھول، بھاری دھاتوں اور روشنی کی آلودگی سے منسلک چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارشات بھی تیار کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ، شمس نے سمندری کچھوؤں کے بارے میں سائنسی معلومات کو وسعت دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کا سہارا لیا ہے۔ ڈرونز کا استعمال پہلے سے غیر دستاویزی ملاپ کے علاقوں کی نشاندہی کے لیے کیا گیا ہے جبکہ ہاکسبل کچھوؤں پر سیٹلائٹ کے ذریعے ٹریک کرنے والی چھ ڈیوائسز لگائی گئی ہیں جو مزید ڈیوائسز لگانے کے ایک وسیع پروگرام کا حصہ ہیں۔ ٹریکنگ پروگرام کا مقصد جنوبی ریڈ سی میں کچھوؤں کی تقسیم اور ان کی نقل و حرکت کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔
ماحولیاتی بیداری بڑھانے اور قومی مہارت کو فروغ دینے کے لیے، شمس نے سمندر اور ساحلوں پر کچھوؤں کی نگرانی کے حوالے سے متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کے لیے سمندری جنگلی حیات کو ریسکیو کرنے کے کئی کورسز کرائے ہیں۔ اس نے کنگ فیصل یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے کچھوؤں کی ویٹرنری نگہداشت کا ایک جامع پروگرام بھی منظم کیا ہے۔

تنظیم نے وزارتِ تعلیم کے تعاون سے بلیو سکولز کا نصاب تیار کیا جس میں سمندری کچھوے پرائمری اور سیکنڈری کے طلبہ کے لیے آگاہی پروگرام شروع کیا۔ وزارت نے اسے 2026 میں منظوری دی۔
تنظیم سمندری کچھوؤں کے ساتھ برتاؤ کو منظم کرنے کے لیے ایک متحد قومی ضابطہ اخلاق بھی تیار کر رہی ہے تاکہ اسے منظور اور جاری کیا جا سکے۔
