حوثیوں کے خلاف پاکستانی فضائیہ کے استعمال کی خبر جعلی اور من گھڑت ہے: حکومتِ پاکستان
جمعرات 8 اکتوبر 2026 16:57
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے یمن کے حوثیوں کے خلاف پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کے استعمال سے متعلق نیو یارک ٹائمز کی خبر کو ’جعلی اور من گھڑت‘ قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار نے ایک سینیئر پاکستانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے خبر شائع کی جس میں انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کو دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستانی فضائیہ کے جنگی جہاز حوثیوں کے خلاف حملوں میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘
پاکستان میں امریکی فوج کے سابق ملٹری اتاشی اور ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سابق تجزیہ کار کرنل ڈیوڈ او سمتھ نے بدھ کو کہا کہ ’اگرچہ ان کی رسائی خفیہ اعداد و شمار تک نہیں ہے، تاہم تجزیہ کاروں میں اس بات پر اتفاقِ رائے ہے کہ قریباً آٹھ ہزار پاکستانی اہلکار سعودی عرب میں تعینات کیے گئے ہیں۔‘
تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’جھوٹ اور من گھڑت‘ قرار دیا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے جمعرات کو ’ایکس‘ پر جاری اپنے فیکٹ چیک بیان میں کہا کہ نیو یارک ٹائمز کی خبر میں حوثیوں کے خلاف پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کے استعمال کا دعویٰ بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔
بیان میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے ایک بار پھر کہا گیا ہے کہ ’وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کے ممکنہ استعمال سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں۔‘
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ ’اگر پاکستانی مسلح افواج کو کسی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام فراہم کریں گے۔‘
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 6 اکتوبر 2026 کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ مملکت میں فوری طور پر مشترکہ فوجی دستے اور ضروری فوجی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس حوالے سے پاکستانی فوج نے بدھ کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں اپنی افواج کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہم، پاکستان کی افواج، پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ یہ بات میں آپ کے ساتھ شیئر کر سکتا ہوں۔‘
