پاکستانی فوج سعودی عرب میں دفاعی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے: دفترِ خارجہ
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں اس کے فوجی اہلکاروں کی خاطر خواہ تعداد تعینات ہے، جو دفاعی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی فوج سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے موجود ہے اور حوثیوں کے خلاف حملے کی غرض سے سرحد پار نہیں کرے گی۔‘
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے پہلے ہی بڑی تعداد میں فوجی اہلکار اور وسائل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں موجود ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں تعینات پاکستان فوج دوسرے فریق کی سرحد عبور کر کے حوثیوں پر حملہ نہیں کرے گی، تاہم سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔
اس سے قبل بدھ کو پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی بدھ کو سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی تعیناتی کی تصدیق کی تھی۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ ’پاکستانی فوجی مملکت میں کئی دہائیوں سے مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں اور فرائض انجام دے رہے ہیں۔‘
پاکستانی فوج کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مکہ دفاعی اتحاد اچانک وجود میں آنے والا کوئی انتظام نہیں بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مسلسل سفارتی، سیاسی، فوجی اور عوامی سطح کے تعلقات کا نتیجہ ہے۔‘
یاد رہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین سات اگست 2026 کو طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان نے اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے، جبکہ تینوں ممالک کے مابین اس کے تحت فوجی تعاون اور رابطوں میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے۔
