جنوبی افریقہ: تارکین اور مقامی افراد میں جھڑپیں، پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کا حکم واپس
جنوبی افریقہ کی حکومت نے جمعے کو پناہ کی درخواستوں پر کارروائی سے متعلق اپنا حکم واپس لے لیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس حکم کے بعد غیر ملکی شہریوں اور اُن کی آمد کے مخالف مقامی افراد کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔
جمعرات کو جوہانسبرگ کے علاقے سوویٹو اور ساحلی شہر ڈربن میں متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور غیر ملکی شہریوں کی چھوٹی دُکانوں کو لُوٹ لیا گیا تھا۔
آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد حکومت نے پناہ گزینوں کے مراکز کو درخواستیں وصول کرنے اور ان پر کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اپنھے فیصلے میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے بعض پابندیوں کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔
اس حکم کے بعد سینکڑوں غیر ملکی تارکین پناہ کی درخواستیں دینے مراکز پہنچ گئے، جس سے مقامی افراد اور غیر ملکی تارکینِ وطن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔
اس مسئلے پر پہلے بھی کئی ہفتوں تک احتجاج ہوتا رہا، جس کے دوران ہزاروں غیر ملکی افریقی شہری جنوبی افریقہ چھوڑ کر اپنے ملکوں میں واپس چلے گئے تھے۔
جنوبی افریقہ چھوڑنے والے غیر ملکی شہریوں میں سب سے بڑی تعداد زمبابوے اور ملاوی کے باشندوں کی تھی۔
گھانا، کینیا، لیسوتھو، موزمبیق، نائجیریا اور یوگنڈا کے شہری بھی جنوبی افریقہ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔
ان میں سے بعض افراد کو ان کی اپنی حکومتوں نے وطن واپس بُلا لیا، جس کے باعث جنوبی افریقہ اور دیگر افریقی ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔
حکام محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد کے چند ہی دنوں میں دفاتر پر کام کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا اور سرکاری اہلکاروں کی سلامتی اور امن و امان کے سنگین مسائل بھی پیدا ہوگئے تھے۔
اسی وجہ سے حکومت نے حکم واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ ’اس معاملے پر اب نیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔‘
جنوبی افریقہ، براعظم افریقہ کا امیر ترین ملک اور سب سے بڑی معیشت ہے۔ دیگر افریقی ممالک سے ہزاروں افراد روزگار اور بہتر زندگی کی جستجو میں یہاں آتے ہیں۔
رواں برس چار نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف شکایات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد سے زیادہ ہونا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
جنوبی افریقہ میں قریباً 20 سال سے وقتاً فوقتاً غیر ملکیوں کے خلاف تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ بعض مقامی افراد غیر ملکیوں تارکین پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اُن کی ملازمتوں اور وسائل پر قبضہ کر رہے ہیں۔
