Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چھ دہائیوں کا تجربہ، ’اُم السدو‘ کا ہنر فالکنز ایگزیبشن میں نمایاں

لھدہ النعزی نے 13 سال کی عمر میں یہ کام سیکھنا شروع کیا تھا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی دستکار لھدہ العنزی، جنہیں ان کے علاقے میں ’اُم السدو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، بین الاقوامی سعودی فالکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبشن میں سدو کی بُنائی کا اپنا 60 سال سے زیادہ کا تجربہ پیش کر رہی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وہ یہاں آنے والے وزیٹرز کو براہِ راست مظاہرے پیش کر رہی ہیں اور مملکت کے سب سے پائیدار غیر مادی ثقافتی ورثے کے بارے میں معلومات فراہم کر رہی ہیں۔
النعزی نے 13 سال کی عمر میں یہ کام سیکھنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سدو کا پرانی بدوی زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے۔ اس کام میں روایتی کھڈیوں پر اون کو کاتا، رنگا اور ہاتھ سے بُنا جاتا ہے، جس سے خوبصورت ڈیزائن بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کپڑا صحرائی خیموں، گھر کے سامان اور اونٹ اور گھوڑوں کی سجاوٹ میں استعمال ہوتا ہے۔
نمائش میں رکھی گئی ان کی چیزوں میں روایتی خیموں کے پردے، خرجین، گھر کی سجاوٹ کا سامان، دیوار پر لٹکانے والے کپڑے اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ اس فن کو زندہ رکھنے کے لیے النعزی نے 46 خواتین کو بُنائی کے مستند طریقے سکھائے ہیں تاکہ یہ ہنر نئی نسل تک پہنچ سکے۔

نمائش میں ان کا براہِ راست کپڑا بُن کر دکھانا ثقافتی پویلین کا اہم حصہ ہے جہاں سعودی عرب کی پرانی دستکاریوں کو سامنے لایا جا رہا ہے اور قومی ورثے کو سنبھالنے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

 

شیئر: