ایک سال میں 341 ناول، مملکت میں ادب کے فروغ کے لی کوششیں
رپورٹ کے مطابق 2025 میں سعودی مصنفین کے شائع ہونے والے ناولوں کی تعداد 341 تک پہنچ گئی (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ثقافتی ادارے اور ادبی تنظیمیں ہر سال 12 اکتوبر کو عالمی یومِ عربی ناول منا رہی ہیں۔ اس موقع پر کتابوں کی اشاعت اور ناول لکھنے کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ادبی تقریبات بھی بڑھ رہی ہیں، جن میں ناول نگار، قارئین اور لکھنے کے فن میں دلچسپی رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ سعودی عرب کے ثقافتی میدان کی ترقی اور سعودی وژن 2030 کے تحت ملنے والی مدد کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ دن ایسے موقع پر منایا جا رہا ہے جب وزارتِ ثقافت کی جانب سے ’دی سٹیٹ آف کلچر ان دی کنگڈم آف سعودی عریبیہ 2025‘ کی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں سعودی مصنفین کے شائع ہونے والے ناولوں کی تعداد 341 تک پہنچ گئی جبکہ 2024 میں یہ 218 تھی۔ اس طرح ناولوں کی تعداد میں تقریباً 56 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح تمام شائع ہونے والی ادبی تحریروں کی کل تعداد 2025 میں بڑھ کر 715 ہو گئی جبکہ 2024 میں یہ 509 تھی جو کہ تقریباً 40.5 فیصد کا اضافہ ہے۔
لکھنے کے معاملے میں ناول سب سے آگے رہا جس کے بعد مختصر کہانیوں کے مجموعے، شاعری کی کتابیں اور آپ بیتیاں شامل ہیں۔
کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے معاملے میں کتابوں کی دکانوں اور مراکز کی تعداد 2019 میں 123 تھی جو بڑھ کر 800 ہو گئی۔ یہ کتابیں بیچنے کے نظام کے پھیلاؤ اور اشاعتی کاموں کی بہتری کو دکھاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں عربی سے دوسری زبانوں میں 847 کتابوں کا ترجمہ کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی ادب اب دنیا کی دوسری ثقافتوں کے لوگوں تک بھی آسانی سے پہنچ رہا ہے۔
عالمی یومِ ناول عربی ایک ایسا موقع ہے جب ہم سعودی عرب میں ناول نگاری میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان تبدیلیوں میں مختلف موضوعات، کہانی بیان کرنے کے نئے انداز، لکھنے کے مختلف طریقے، معاشرتی اور تاریخی یادوں کا ذکر، اور معاشرے میں ہونے والی انسانی اور ثقافتی تبدیلیوں کو سمجھنے کی کوشش شامل ہے۔
