Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جڑوں سے گہرا تعلق‘: طویق سکلپچر2027 کے لیے درخواستوں کا آغاز

آٹھویں ایڈیشن میں مختلف قسم کے میٹریلز استعمال کیے جائیں گے (فوٹو: ایس پی اے)
ریاض سٹی کی رائل کمیشن کے منصوبوں میں سے ایک، ریاض آرٹ نے طویق سکلپچر سمپوزیم کے آٹھویں ایڈیشن کے لیے درخواستوں کا آغاز کر دیا ہے جو 2027 کے اوائل میں ریاض میں منعقد ہونے والا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ سمپوزیم 18 اکتوبر سے آٹھ نومبر 2026 تک سعودی عرب اور دنیا بھر کے فنکاروں سے درخواستیں قبول کرے گا۔ ریاض میں سکلپچر کے شاہکار تیار کرنے کے لیے کیوریٹرز کی جانب سے کل 20 فنکاروں کو منتخب کیا جائے گا۔
درخواست دہندگان کے پاس سکلپچر، فن پاروں کی نمائش اور عوامی فن کے منصوبوں کو مکمل کرنے کا کم از کم تین سال کا پیشہ ورانہ تجربہ ہونا ضروری ہے۔
سالانہ سمپوزیم کا موضوع ’جڑوں سے گہرا تعلق‘ ہے۔ اس میں بتایا جائے گا کہ کسی جگہ کی تاریخ، ثقافت اور وہاں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں سے اس جگہ کی پہچان کیسے بنتی ہے۔
پروگرام نے سمپوزیم کے آٹھویں ایڈیشن کے لیے ٹیم کا اعلان بھی کیا جن میں برطانوی آرٹ کیوریٹر اور پروڈیوسر الڈو رینالڈی، برطانوی اطالوی کیوریٹر، آرٹسٹک ڈائریکٹر اور کلچرل سٹریٹجسٹ اورونڈا سکیلیرا، اور سعودی فنکار، محقق، معلم اور آرٹ کیوریٹر ڈاکٹر سہا الزید شامل ہیں۔ یہ تینوں افراد سمپوزیم کے فنکارانہ نقطہ نظر کی رہنمائی کریں گے اور حصہ لینے والے فنکاروں کا انتخاب کریں گے۔
عرب نیوز کے مطابق رینالڈی ایک برطانوی کیوریٹر اور پروڈیوسر ہیں جو روایتی گیلریوں اور عجائب گھروں کی جگہوں سے ہٹ کر فن پاروں کی تیاری کے لیے جانے جاتے ہیں، جبکہ ان کا کام عوامی فن، فنِ تعمیر اور مختلف شعبوں کے باہمی تعاون پر محیط ہے۔ ان کے کاموں میں راجر ہیورنز، ماریا تھیریزا الویس اور ادریس خان کے شاہکار شامل ہیں۔
سکیلیرا ایک برطانوی اطالوی کیوریٹر، آرٹسٹک ڈائریکٹر اور کلچرل سٹریٹجسٹ ہیں جو جدید آرٹ، ڈیجیٹل ثقافت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ ان کے حالیہ منصوبوں میں نور ریاض 2024 اور آرٹ دبئی ڈیجیٹل شامل ہیں۔

الزید ایک سعودی فنکار، معلم اور کیوریٹر ہیں جن کا کام مملکت میں ثقافت، شناخت اور بصری تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ آرٹس اینڈ ڈیزائن کے لیے سعودی سائنٹیفک سوسائٹی کے بورڈ کی چیئرپرسن ہیں اور اس سے قبل سعودی جرنل آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کی چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
آٹھویں ایڈیشن میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کسی جگہ کی زمین، تاریخ، یادیں اور ثقافت مل کر اس کی پہچان بناتے ہیں۔ وقت کے ساتھ جب کوئی جگہ بدلتی ہے تو یہ تمام چیزیں بھی اس تبدیلی سے جڑی ہوتی ہیں۔
اس تصور کے مطابق، اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا مطلب صرف ماضی کو یاد رکھنا نہیں، بلکہ ان سے طاقت حاصل کرکے آگے بڑھنا، جگہ کو بہتر بنانا اور اس کے مستقبل کو ایک نئی شکل دینا بھی ہے۔
آٹھویں ایڈیشن میں مختلف قسم کے میٹریلز استعمال کیے جائیں گے جن میں گرینائٹ پتھر، دھاتیں، سجاوٹی جالی دار بلاکس، موزیک اور سیمنٹ شامل ہیں۔ یہ تمام چیزیں سمپوزیم کے منظور شدہ فنی منصوبے اور کام کے طریقہ کار کے مطابق استعمال ہوں گی۔

پتھر کے ساتھ کام کرنے والے منتخب فنکار سعودی عرب سے حاصل کیے گئے مختلف رنگوں کے پتھر بھی استعمال کر سکیں گے۔ ان میں تین خاص رنگ رائل گولڈ، گرین اور رائل پنک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیاہ بیسالٹ پتھر بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ اس سے فنکاروں کو ان روایتی چیزوں کو نئے اور منفرد انداز میں استعمال کرنے کے مواقع ملیں گے۔
طویق سکلپچر سمپوزیم 2027 میں شرکت کے لیے درخواست دینے سے متعلق مزید معلومات کے لیے ریاض آرٹ کی ویب سائٹ اور سمپوزیم کے مخصوص صفحے کا دورہ کریں۔

 

شیئر: