ادبی میلے بڑے شہروں کے لیے ہی کیوں؟

پاکستان کے 10 بڑے شہروں میں مقیم افراد کل آبادی کا بمشکل 30 فیصد ہیں۔ فائل فوٹو
دنیا کے جس خطے میں پاکستان واقع ہے، یہ خطہ دنیا کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ گلگت بلتستان میں دو زیرزمین پلیٹس کے تقریبا ساڑھے پانچ کروڑ برس قبل اک ٹکراؤ نے ایشیائی اور یورپین براعظموں کی تخلیق کا عمل شروع کیا، اور اُس ٹکراؤ کا یہ عمل ابھی تک جاری ہے۔ گلگت بلتستان میں ہی جگلوٹ کے مقام پر دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے، ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم ملتے ہیں اور یہیں پر ساڑھے پانچ کروڑ برس سے بہنے والا دریائے سندھ اپنا سفر شروع کرتا ہے۔
اک دھرتی جو ساڑھے پانچ کروڑ برس پہلے کی تخلیق  ہے، اس دھرتی کے رنگ تو شمار کیجیے؟ کیا آپ وہ رنگ شمار کر بھی سکتے ہیں؟ رنگ شماری کے لیے آپ کو پاکستان کے طول و عرض کا سفر جو کرنا پڑے، تو کیجیے۔

پنگھوڑے سے کفن تک، اشراف کا سفر عموما اپنے طبقہ کے آس پاس ہی رہتا ہے۔ فائل فوٹو

میرے وطن کی اس اصلیت میں رنگ ہیں۔ میلے ہیں۔ ٹھیلے ہیں۔ تہوار ہیں۔ ثقافتیں ہیں۔ رسوم ہیں۔ رواج ہیں۔ رقص ہیں۔ مقامی مشروب ہیں۔ موسم کو خوش آمدید اور الوداع کرنے کی رِیتیں ہیں۔ آپس کی جُڑت ہے۔ محبتیں ہیں۔ یگانگت ہے۔ اور اس تمام انواع و اقسام کی رنگا رنگی کے باوجود، اک بڑی اور خوبصورت قوم کا تصور ہے جو خنجراب کے برفیلے پہاڑوں سے لے کر، تربت کے گرم صحراؤں اور سفید ریت کے جادو-اثر ساحل تک پھیلی ہوئی ہے۔

پاکستان کے دوسرے علاقے گونگے ہیں؟ فائل فوٹو: ورلڈ اٹلس

یہ تمام خوبصورتیاں منانے کی ہیں۔ جو مگر پچھلی تین چار دہائیوں سے کہیں بہت دور، پسِ پشت جا پڑی ہیں، یا چند مقاصد کے حصول کی خاطر، جان بوجھ کر کہیں بہت دور پھنکوا دی گئیں۔ اس نے میرے وطن کے لوگ، ان کی معاشرت، ذہنیت اور طریقہء زندگی کو بہت تلخی، سختی اور تشدد دیا۔ وہ خطہ جو اس تمام رنگا رنگی کا وارث تھا، وہ صرف خون کے ہی سرخ رنگ میں اک طویل عرصے نہایا اور ڈوبا رہا۔
پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ یہ بہت بڑا ظلم ہوا۔
ظلم کے اس سفر کے رستے میں پاکستان کے انہی علاقوں کی رنگا رنگی، یگانگت اور خوبصورتیوں نے ہی بند باندھنے تھے، اور باندھے بھی۔ تقریبا عرصہ دس برس قبل، پاکستان کے اصل رنگوں کی خوبصورتیوں کی تعارف کروانے کی خاطر، ادبی میلوں کا اک سفر شروع ہوا، جو اب اپنی پہچان و شناخت بلاشبہ بنا چکا ہے۔

پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ یہ بہت بڑا ظلم ہوا۔ فائل فوٹو: کے ایل ایف

مگر کہنا یہ ہے کہ یہ ادبی میلے کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک ہی محدود ہیں۔ شاید اس لیے بھی کہ اس کو منعقد کرنے والے احباب، خود انہیں تین چار شہروں کی اشرافیہ سے ہیں، اور پنگھوڑے سے کفن تک، اشراف کا سفر عموما اپنے طبقہ کے آس پاس ہی رہتا ہے۔
پاکستان کی تمام شہری آبادی، جو دس بڑے شہروں میں مقیم ہے، وہ کل آبادی کا بمشکل 30 فیصد ہے۔ باقی کا 70 فیصد پاکستان جو چھوٹے شہروں، ٹاؤن-سنٹرز، قصبات اور دیہاتی علاقوں پر مشتمل ہے، کیا وہاں کہنے، پڑھنے، بولنے والے آباد نہیں؟ کیا وہاں شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار اور علاقائی ہنرمند موجود نہیں؟ کیا اشراف کے منتخب کردہ بڑے شہروں کے علاوہ، پاکستان کے دوسرے علاقے گونگے ہیں؟ بہرے ہیں؟ ادب سے بےبہرہ ہیں؟

 

اوپری پیراگراف ہی وہ بنیادی خیال بنا کہ راقم الحروف کے اک چھوٹے سے ادارے نے پاکستان میں موجود "ادبی میلوں" کے "کارپوریٹ کلچر" کو بھانپتے ہوئے پاکستان کے "آف-سٹریم" شہروں میں ادبی میلوں کے انعقاد کی کوشش شروع کی اور اس سلسلہ میں 2017 اور 2018 میں ملتان میں پہلا اور دوسرا ادبی میلہ منعقد کروایا۔ اب 2019 میں یہی سلسلہ پہلے مردان ادبی میلہ کی صورت میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مردان کا ادبی میلہ 22 اور 23 اکتوبر کو جاری رہے گا اور اس سلسلہ میں عبدالولی خان یونیورسٹی، مردان، اک رہنما کردار ادا کر رہی ہے۔

تمام قارئین سے گزارش و درخواست ہے کہ اس میلے کو زمین اور سوشل میڈیا پر اپنے حلقہ احباب میں کامیاب بنائیں۔ اور ادبی میلوں کے تصور کو کارپوریٹ بنا دینے والی اشرافیہ کو دو محبت بھرے پیغامات بھجوائیں: مردان اور اس جیسے سینکڑوں دوسرے شہر چھوٹے شہر، گونگے نہیں۔ ادب و تاریخ انگریزی زبان کے علاوہ دیگر زبانیں بھی رکھتے ہیں۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: