’چیچک‘ کو ’ماتا‘ کیوں کہا جاتا ہے؟

جب کسی کی عیادت کو جائیں تو درست لفظ دھیان میں رکھیں۔
انور شعؔور کی شاعری میں ان کی شخصیت کا دھیما پن جھلکتا ہے۔ وہ مشکل مضمون بھی جس سہولت سے باندھتے ہیں اسے شعری اصطلاح میں ’سہل ممتنع‘ کہا جاتا ہے۔ انور شعؔور کے شعری محاسن کا بیان کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں فی الحال اُن کا ایک شعر ملاحظہ کریں:
بلا ہو گئے تھے وہ آنے کے بعد
مگر یاد آتے ہیں جانے کے بعد
اس شعر کے انتخاب کی وجہ پہلے مصرع کا پہلا لفظ ’بَلا ‘ ہے۔ اسے ’بِلا‘ نہ پڑھا جائے۔ ورنہ شاعر اور بِلا دونوں بُرا مان سکتے ہیں۔
’بَلا‘ کثیر المعنی لفظ ہے اس لیے یہاں موضوع سے متعلق معنی ہی سے بحث کریں گے۔ ’بلا‘ کے پہلے معنی سختی اور زحمت ہیں۔ دوسرے معنی میں دکھ، آفت، قہر، غضب اور تیسرے معنی میں چڑیل، ڈائن اور آسیب داخل ہیں۔
’بلا‘ کے تعلق سے اردو زبان میں بہت سے محاورے رائج ہیں ان ہی میں سے ایک ’ طویلے کی بلا بندر کے سر‘ ہے۔ ’طویلہ‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو اُس لمبی رسی کو کہتے ہیں جس سے بیک وقت کئی گھوڑوں کے پاؤں باندھے جائیں۔ گھوڑوں کی نسبت سے مجازاً اصطبل کو بھی ’طویلہ‘ کہتے ہیں۔ گمان ہے کہ پاؤں باندھنے کی یہ رسی اپنی ’طوالت‘ کی وجہ سے ’طویلہ‘ کہلاتی ہے۔ خیر طویلے کی رعایت سے سید محمد جعفری کا شعر ملاحظہ کریں:
 یہ توقع بندروں سے کر بھلا ہوگا بھلا
ہے یہی بندر کے سر گویا طویلے کی بلا
رہی بات ’ طویلے کی بلا ‘ کی، تو اس کا تعلق عمومی تَوَہُّم پرستی سے ہے۔ ایک وقت تھا جب گھوڑے کو شاہی سواری اور گھڑ سوار کو ’شہ سوار‘ کا درجہ حاصل تھا۔ رئیسوں اور راجاؤں کے بڑے بڑے طویلے ہوتے تھے جہاں گھوڑوں کے ساتھ ساتھ ایک بندر بھی باندھ دیا جاتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ گھوڑوں اور خچروں پر آئی بیماریاں اور بلائیں بندر کے سر آئیں اور طویلہ بربادی سے بچ جائے۔ ایسے موقع پر جب خطا کسی کی ہو اور سزا کوئی اور پائے تو محاورہ ’طویلے کی بلا بندر کے سر‘ بولا جاتا ہے۔ ہندی زبان میں اس طرح کی حرکتوں کو ’ بَلِّی (بَل لِی) چڑھانا‘ کہتے ہیں۔
’بَلا‘ یعنی ڈائن یا چڑیل کو عربی میں ’ غول‘ کہتے ہیں۔ مشہور ہے کہ یہ انسانوں کو کھا جاتی ہے۔ اردو ترکیب ’غول بیابانی‘ کا تعلق اسی ’غول‘ سے ہے۔ دیکھیں باقؔی احمد پوری کیا کہتے ہیں:
اب غزالاں سے کہو چھپ کے کہیں بیٹھ رہیں
آمد آمد ہے کسی ’غولِ بیابانی‘ کی
اس غول کی جمع ’غیلان‘ ہیں۔ مشہور ہے کہ ان کا بسیرا ببول کے درختوں پر ہوتا ہے۔ ببول کو ہمارے یہاں ’کیکر‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ ویرانوں میں پھلنے پھولنے والا خود رو کانٹے دار درخت ہے۔ عربی میں اس درخت کو ’ غیلان‘ کی نسبت سے ’اُم غِیلان‘ کہتے ہیں۔ جس کا لفظی مطلب ’چڑیلوں کی ماں‘ ہے۔ ظاہر ہے کہ ’چڑیلیں‘ جس کی آغوش میں پل بڑھ کر خون پینےکے لائق ہوں اُس درخت کو ’ اُم غیلان‘ کہنا تو بنتا ہے۔
فارسی اور اردو میں ’ اُم غیلان‘ جزوی تبدیلی کے ساتھ ’ مُغِیلاں‘ ہوگیا ہے جسے ہم ایک عرصے تک ’مغلوں‘ سے متعلق سمجھتے رہے۔ ’مُغِیلاں‘ کے ’خار‘ کی چبھن قریب قریب ہر شاعر نے محسوس کی ہے۔ فیض احمد فیضؔ کہہ گئے ہیں:
ہے دشت اب بھی دشت مگر خون پا سے فیضؔ
سیراب چند خارِ مغیلاں ہوئے تو ہیں

’شِفَا‘ اور ’شَفَا‘ دو الگ الفاظ ہیں جن کے معنی باہم متضاد ہیں۔ فوٹو: سٹاکسی یونائیٹڈ

ہم ابھی خارِ مُغیلاں ہی چن رہے تھے کہ ’ اُمُ الصِّبْیَان ‘ سے سامنا ہوگیا۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اب یہ کس بلا کا نام ہے؟۔۔۔ تو عرض ہے اس ’بلا‘ کا تعلق بھی تَوَہُّمات سے ہے۔ قدیم عرب روایت کے مطابق ’ اُمُ الصِّبْیَان ‘ ایک جن کی ماں کا نام ہے جو بچوں کو ستاتی اور صدمہ پہنچاتی ہے‘۔
بچوں کو ستانے اور نقصان پہنچانے کی رعایت سے طبیبوں اور حکیموں کے یہاں بچوں میں پائی جانے والی مرگی کی قسم سے ایک بیماری کا نام ’ اُم الصبیان‘ رکھا دیا گیا ہے۔
یہ تو عربوں کا ذکر تھا خود  بر صغیر میں ’چیچک‘  کو ’ماتا‘ یعنی ماں کہا جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ماں بچوں پر رحم کھاتی ہے اور ایسے میں امید کی جاتی ہےکہ یہ بیماری بچوں کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔
’اِس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔‘
ان بلاؤں اور بیماریوں کے ذکر سے آگے بڑھتے ہیں اور کچھ صحت و شفا کی بات کرتے ہیں۔ میری تقی میؔر کہہ گئے ہیں:
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دوا  کر چلے
’شِفَا‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’صحت و تن درستی‘ ہے۔ اسی شِفا سے اردو میں شِفا پانا، شِفا یاب ہونا ، شِفا خانہ اور دارالشِفا جیسی تراکیب رائج ہیں۔ مگر عام طور پر ہمارے یہاں ’ شِفَا ‘کو ’شین‘ پر زبر کے ساتھ ’ شَفَا ‘ بھی کہہ دیتے ہیں، جو غلط ہے۔ وہ یوں کہ ’ شِفَا ‘ اور ’شَفَا‘ دو الگ الفاظ ہیں جن کے معنی باہم متضاد ہیں۔’ شَفَا ‘ کے عمومی معنی ’کسی بھی چیز کا کنارا‘ ہے۔ تاہم اس کے مفہوم میں ’ہلاکت‘ داخل ہے۔
یہ بات ہم نہیں کہتے بلکہ عربی زبان کے ایک بڑے عالم علامہ راغب اصفہانی نے بیان کی ہے۔ ان کے مطابق لفظ ’شَفَا ‘ قربِ ہلاکت کے لیے ضرب المثل ہے۔ چاند یا سورج کے غروب ہونے یا کسی کی موت کے وقت کہتے ہیں ’مَا لَقِیَ مِنْ کَذَا اِلَّا شَفیً۔۔۔‘ یعنی فلاں چیز تھوڑی سی باقی رہ گئی ہے۔
سچ پو چھیں تو یہ ’دعا‘ لکھنے اور ’دغا‘ پڑھے جانے سے آگے کی بات ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ جب کسی کی عیادت کو جائیں تو درست لفظ دھیان میں رکھیں، ورنہ آپ کو ’محرم‘ سے ’ مجرم‘ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔
 اردو زبان میں عربی کے ایسے بہت سے الفاظ رائج ہیں جو اِعْراب ( زیر۔زبر۔پیش) کی تبدیلی سے اپنے معنی و مفہوم بدل لیتے ہیں۔ جیسے لفظ ’وضو‘ ہی کو دیکھ لیں۔ عام طور پر اسے ’وَضو‘ اور ’وُضو‘ دونوں طرح سے بولا جاتا ہے۔ در حقیقت یہ ایک ہوتے ہوئے بھی دو الگ الفاظ ہیں۔
حرف ’واؤ‘ پر زبر کے ساتھ ’ وَضو‘ پاکی کے اُس عمل کو کہتے ہیں جو نماز کی ادا ئیگی کے لیے ضروری ہے۔ جب کہ حرف ’واؤ‘ پر پیش کے ساتھ ’ وُضُو ‘اُس پانی کو کہتے ہیں جس سے ’ وَضو ‘ کیا جاتا ہے۔ یہی معاملہ ’ غَسل ‘ اور ’ غُسل ‘ کا ہے۔ مگر اب کوئی اتنی گھیرائی میں نہیں جاتا اسی لیے اردو میں یہ دونوں الفاظ فقط ’ وُضُو اور غُسل‘ کی صورت میں رائج ہیں۔ پانی کے لیے حسب موقع وضو کا پانی یا غسل کا پانی کہہ کر مراد پاتے ہیں۔ وضو پر راغب اختر صاحب کا ایک شعر ملاحظہ کریں اور ہمیں اجازت دیں:
عبادت کے لیے تطہیرِ دل کی بھی ضرورت ہے
وضو کے بعد پھر اشک ندامت سے وضو کرنا

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: