Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ماحولیات کا عالمی دن: سعودی عرب کے ماحول دوست منصوبوں کا جائزہ

ماحولیات کے عالمی دن 2026 کے موقع پر جب پوری دنیا کی توجہ ماحولیاتی تبدیلیوں پر مرکوز ہے، سعودی عرب عملی اقدامات کے ذریعے اپنی ایک الگ پہچان بنا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ان کوششوں میں ایکوسسٹمز کا تحفظ، شواہد پر مبنی بحالی کا کام اور ایسے حل شامل ہیں جن کی پیمائش اور دائرہ کار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
ماحولیات کا عالمی دن 5 جون کو منایا جاتا ہے اور سال 2026 ماحولیاتی تبدیلیوں پر مرکوز ہے وہیں سعودی ادارے ملکی ترجیحات کے مطابق کیے جانے والے اپنے کاموں کو دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔
کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں چیف سسٹینیبلٹی آفیسر پروفیسر اینا مارگریڈا کوسٹا نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’آج، کاؤسٹ ماحولیاتی پائیداری کے بہترین تعلیمی نصاب اور تحقیق کے ذریعے صاف توانائی، پانی کے تحفظ، پائیدار زراعت، ماحول کی بحالی اور کلائمیٹ ریزلیئنس کے لیے عملی حل تیار کر رہی ہے۔‘
سعودی گرین انیشیٹیو کے تحت، مملکت نے 2030 کے لیے اہداف تیار کیے ہوئے ہیں جیسے کہ سالانہ کاربن کے اخراج میں 278 ملین ٹن کمی کرنا۔ اس کے علاوہ 600 ملین سے زیادہ درخت لگانا اور ملک کے 30 فیصد زمینی و سمندری حصے کو محفوظ بنانا بھی ان اہداف میں شامل ہے۔
کوسٹا نے مزید کہا کہ ’ماحولیات کا عالمی دن قدرتی وسائل کو بچانے اور طویل مدتی پائیداری کو آگے بڑھانے کے لیے دنیا کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ کاؤسٹ کے سمندری اور زمینی پروجیکٹس کا مقصد ایسے سائنسی شواہد فراہم کرنا ہے جو سعودی عرب میں ماحول کو بچانے کے منصوبوں میں مددگار ثابت ہو سکیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بحیرۂ احمر میں ہمار کورل ریسٹوریشن انیشیٹیو بڑے جدید پیمانے پر مونگے کی چٹانوں کی بحالی اور سمندری تحفظ پر کام کر رہا ہے جو سعودی عرب کے سب سے قیمتی سمندری نظام کو بچانے میں مدد دے رہا ہے۔‘
زمین پر کام کے سلسلے میں کوسٹا نے وادی قدید ایکسپیریمینٹل سٹیشن اور ایکولوجیکل آبزرویٹری کا ذکر کیا جسے نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیویلپمنٹ اینڈ کومبیٹنگ ڈیزیرٹیفیکیشن کے ساتھ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’سعودی نیٹ انیشیٹیو، کاؤسٹ اور این سی وی سی کے ذریعے زمینی ایکولوجی ریسرچ، بائیوڈائیورسٹی مانیٹرنگ اور زمین کی بحالی کے کام کو مضبوط بنا رہے ہیں۔‘
کوسٹا نے مزید کہا کہ یونیورسٹیاں جدید پائیداری کو ہائیر ایجوکیشن سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کر کے حاصل کر سکتی ہیں، کمیونٹیز کے درمیان رابطہ پیدا کر سکتی ہیں اور نئی نسل کو سائنس کے ذریعے متاثر کر کے ملک کے ماحولیاتی اہداف کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

علی الطمیحی جو پیشے کے لحاظ سے انوائرمینٹل انجینیئر ہیں، نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گرم موسم والے ملک میں سب سے زیادہ فائدہ تب ہوتا ہے جب صاف توانائی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت کو کم کیا جائے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سولر انرجی صاف بجلی فراہم کر سکتی ہے جبکہ عمارتوں میں ہم انسولیشن کو بہتر بنا کر ٹھنڈک کی ضرورت کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں اور صاف توانائی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کیگالی ترمیم کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ پائیدار کولنگ اوزون کو بھی تحفظ فراہم کرتی ہے اور ماحولیاتی نقصانات کو کم کرنے میں بڑی مدد فراہم کرتی ہے۔‘
کیگالی ترمیم 2016 میں منظور ہونے والا ایک بین الاقوامی اور قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے جس کا مقصد ہائیڈروفلوروکاربنز کی پیداوار اور استعمال کو کم کرنا ہے۔
الطمیحی نے مزید کہا کہ اگر ہم سولر پاور کو توانائی بچانے والی عمارتوں کے ساتھ جوڑیں تو صاف کولنگ اخراج کو کم کر سکتی ہے اور سعودی وژن 2030 کو سپورٹ کر سکتی ہے۔

 

شیئر: