Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اقوامِ متحدہ کے ایک اہم عہدیدار غزہ کے معاملے پر اسرائیل پر تنقید کرنے پر ملازمت سے فارغ

بین ڈیوس کو غزہ میں خوراک کی دستیابی اور انسانی حقوق کے قانون سے متعلق ایک رپورٹ پر کام کرنے پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا (فوٹو: چائنہ ڈاٹ آرگ)
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کو کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے باعث انہیں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا، جبکہ ادارے کے سربراہ نے اُن ملازمین کو بھی خبردار کیا ہے جو ’انسانی حقوق کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔‘
ایف اے او کے ڈائریکٹر بین ڈیوس نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں جولائی میں آگاہ کیا گیا تھا کہ 26 سال بعد ان کا معاہدہ مزید نہیں بڑھایا جائے گا۔ اِن کے خلاف الزام تھا کہ انہوں نے ادارے کی غیر جانب داری سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مجھ پر یہ الزام لگایا گیا کہ میں نے غزہ میں بھوک اور قحط کی صورتِ حال پر خاموش مظاہروں کا اہتمام کیا۔‘ وہ روم میں قائم تنظیم کے بعض ملازمین کی جانب سے ہر ہفتے کیے جانے والے خاموش احتجاج کا حوالہ دے رہے تھے۔
بین ڈیوس کو غزہ میں خوراک کی دستیابی اور انسانی حقوق کے قانون سے متعلق ایک رپورٹ پر کام کرنے پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ رپورٹ مئی میں شائع ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم سے یہ رپورٹ ہٹانے کے لیے کہا گیا تھا۔ ہمیں انسانی قانون کا کوئی حوالہ دینے کی اجازت نہیں تھی۔‘
ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے منگل کو بظاہر ادارے کے ملازمین کو خبردار کیا کہ ’ہم یہاں آپ کو انسانی حقوق کا راگ الاپنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
وہ جنگلات سے متعلق ایک اجلاس کے آغاز پر ریکارڈ کی جانے والی اپنی گفتگو میں یہ بات کہہ رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’انسانی حقوق یقیناً بہت اہم ہیں، لیکن جنیوا میں انسانی حقوق کا ادارہ موجود ہے۔ آپ اگر انسانی حقوق کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں جائیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ اگر قانون کے خلاف جائیں گے تو میں مزید لوگوں کو برطرف کروں گا۔‘
ایف اے او نے تبصرے کے لیے اے ایف پی کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ایف اے او کے ڈائریکٹر بین ڈیوس نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے مزید لوگوں کو برطرف کرنے کی بات پر وہ ’فکرمند‘ ہیں۔
ان کے مطابق، خاموش احتجاج کے عروج کے دنوں میں سینکڑوں افراد ان میں شریک ہوتے تھے، تاہم اب ہر ہفتے صرف 30 سے 40 افراد ہی شرکت کرتے ہیں۔

حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اسرائیلی بمباری میں غزہ میں 74 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اسرائیلی بمباری میں غزہ میں 74 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے جنگجوؤں کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر اے ایف پی کی مرتب کردہ گنتی کے مطابق 1,219 افراد جان سے گئے تھے۔

شیئر: