صدر ٹرمپ نے سینیٹ کے لیے مسلمان امیدوار کو غلط نام سے پُکارا، ’دہشت گردوں کا حامی‘ بھی قرار دے دیا
صدر ٹرمپ نے سینیٹ کے لیے مسلمان امیدوار کو غلط نام سے پُکارا، ’دہشت گردوں کا حامی‘ بھی قرار دے دیا
جمعرات 8 اکتوبر 2026 20:12
صدر ٹرمپ اور ان کے حامی مسلسل عبدالسلام السید کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمان سینیٹ کے امیدوار عبدالسلام السید کا نام غلط لیتے ہوئے انہیں ’محمد‘ کہہ دیا اور بغیر کسی ثبوت کے ’دہشت گردوں کا حامی‘ بھی قرار دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ریاست مشی گن سے امریکی سینیٹ کی نشست کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسلام السید کو ’محمد‘ کہہ کر مخاطب کیا۔
عبدالسلام السید عرب نژاد امریکی ہیں اور مشی گن کی سینیٹ نشست کے لیے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کے خلاف مقابلے میں ہیں۔ یہ نشست امریکی سینیٹ میں اکثریت کے حصول کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
عبدالسلام السید نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ میرا نام جانتے ہیں۔‘ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے امیدوار نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ ’میرا نام اور میرے مذہب کو اپنی سیاست سے ہونے والی تکالیف سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق السید کا مڈل نیم ’محمد‘ ہے، تاہم وہ اسے عوامی طور پر استعمال نہیں کرتے۔
صدر ٹرمپ اور ان کے حامی مسلسل عبدالسلام السید کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان پر اور ان کے خاندان پر ’اخوان المسلمون‘ اور ’القاعدہ‘ سے تعلقات کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں عبدالسلام السید کو بائیں بازو کے انفلوئنسر حسن پیکر کا ’بہترین دوست‘ بھی قرار دیا۔ حسن پیکر نے سینیٹ کی انتخابی مہم میں عبدالسلام السید کی حمایت کی ہے۔
مشی گن کی سینیٹ نشست کو ڈیموکریٹس کے لیے امریکی سینیٹ میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کی کوششوں میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عبدالسلام السید نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ میرا نام جانتے ہیں۔‘ (فائل فوٹو: گیٹی)
ڈیموکریٹس کو موجودہ دو مشی گن نشستیں برقرار رکھنے کے علاوہ ری پبلکنز سے مزید چار نشستیں حاصل کرنا ہوں گی۔
مشی گن نے سنہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی تھی، تاہم اسی ریاست میں ڈیموکریٹ امیدوار ایلیسا سلاٹکن نے سینیٹ کی دوسری نشست پر مائیک راجرز کو معمولی فرق سے شکست دی تھی۔
عبدالسلام السید کو ترقی پسند رہنماؤں برنی سینڈرز، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور الزبتھ وارن کے علاوہ یونائیٹڈ آٹو ورکرز یونین کی حمایت بھی حاصل ہے۔
عبدالسلام السید کے انتخابی منشور میں سب کے لیے صحت کی سہولیات، ارب پتی افراد پر زیادہ ٹیکس، اسرائیل کے لیے غیر مشروط امریکی فوجی امداد ختم کرنا اور انتخابات میں کارپوریٹ پیسے کے کردار کو کم کرنا شامل ہے۔