کیا این سی سی آئی اے صارفین کے موبائل فون سکین کر رہی ہے؟
کیا این سی سی آئی اے صارفین کے موبائل فون سکین کر رہی ہے؟
جمعہ 30 اکتوبر 2026 5:11
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
این سی سی آئی اے نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد شیئر کرنے کے الزام میں تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے مشتبہ افراد کا سُراغ لگانے اور بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خلاف کارروائیوں جاری ہیں۔
اس کے بعد یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ کیا این سی سی آئی اے شہریوں کے موبائل فون بھی سکین کر رہی ہے؟ کیا اے آئی کی مدد سے لوگوں کے فون میں موجود تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے یا اس نظام کا مقصد صرف مخصوص نوعیت کے جرائم کی نشان دہی کرنا ہے؟
اس حوالے سے اردو نیوز نے این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر سے خصوصی نشست میں گفتگو کی اور اُن سے مختلف سوالات پوچھے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں یا تو بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے الزام میں گرفتاریاں ہوئیں یا مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق مشتبہ سرگرمیوں کی بنیاد پر تحقیقات کی گئیں۔
عاطف امیر نے بتایا کہ ایجنسی بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق مواد کی نشان دہی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے Katalyst اور PhotoDNA سمیت ٹیکنالوجی پر مبنی نظام استعمال کر رہی ہے۔
ان کے مطابق ایجنسی تمام شہریوں کے موبائل فون سکین نہیں کر رہی اور نہ ہی اس خودکار نظام کا مقصد ہر صارف کی مسلسل نگرانی کرنا ہے۔ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خلاف کارروائیاں
اکتوبر کے پہلے ہفتے میں این سی سی آئی اے لاہور زون نے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد شیئر کرنے، اَپ لوڈ کرنے اور آن لائن گروپس میں پھیلانے کے الزامات میں تین مشتبہ افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔
عاطف امیر کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں حسن اکرم، فیضان احمد اور عمار شامل تھے۔ ان پر بچوں سے متعلق قابلِ اعتراض مواد شیئر کرنے، اَپ لوڈ کرنے یا آن لائن گروپس کے ذریعے پھیلانے کے الزامات تھے۔
ایجنسی کے مطابق گوجرانوالہ میں ایک مشتبہ شخص کی شناخت بھی اے آئی کی مدد سے کیے گئے تجزیے کے بعد ہوئی جس کے نتیجے میں اُسے گرفتار کیا گیا۔
تاہم حکام نے عوامی سطح پر اس نظام کے تکنیکی طریقۂ کار یا اس مخصوص کارروائی میں استعمال ہونے والے سوفٹ ویئر کی مکمل تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔
’این سی سی آئی اے بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق مواد کی نشان دہی کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام استعمال کر رہی ہے‘ (فائل فوٹو: پِکسابے)
اکتوبر میں این سی سی آئی اے نے بیرونِ ملک مقیم کم عمر بچوں کو مبینہ طور پر آن لائن بلیک میل کرنے کے الزام میں ایک اور مشتبہ شخص کی گرفتار کیا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس کے ذریعے بچوں سے رابطہ کرتا، ان کا اعتماد حاصل کرتا اور انہیں قابلِ اعتراض مواد تیار کرنے پر مجبور کرتا تھا۔
بعد میں مبینہ طور پر اسی مواد کو آن لائن پھیلانے کی دھمکی دے کر انہیں بلیک میل کیا جاتا تھا۔ اس کارروائی میں ایک لیپ ٹاپ اور موبائل فون قبضے میں لے کر فورینزک تجزیے کے لیے بھیجے گئے۔
عاطف امیر کے مطابق کارروائی کے دوران اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم سے حاصل ہونے والے تجزیے نے تفتیش میں مدد دی۔ برطانوی ہائی کمیشن کی معاونت سے Katalyst کا اجرا
پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق مواد کی نشان دہی اور تحقیقات کو مؤثر بنانے کے لیے این سی سی آئی اے نے رواں سال جنوری میں اے آئی پر مبنی تحقیقاتی ٹُول Katalyst متعارف کرایا تھا۔
یہ نظام وزارتِ داخلہ و انسداد منشیات اور برطانیہ پاکستان سیریس کرائم اینڈ لا انفورسمنٹ (UPSCALE) پروگرام کے اشتراک سے تیار کیا گیا تھا جسے برطانوی ہائی کمیشن کی مالی معاونت حاصل ہے۔
عاطف امیر کے مطابق ’این سی سی آئی اے کا خودکار نظام بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد پر مرکوز ہے‘ (فائل فوٹو: گیٹی)
اس ٹُول کا مقصد بچوں کے آن لائن جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق رپورٹس اور ڈیجیٹل شواہد کی شناخت اور تحقیقات میں مدد فراہم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام سے امریکی نیشنل سینٹر فار مِسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن (NCMEC) سے موصول ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لینے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع تھا۔
ادارے کی جانب سے اس وقت بتایا گیا تھا کہ ایجنسی یہ صلاحیت قریباً 1200 رپورٹس ماہانہ سے بڑھا کر ایک لاکھ سے زیادہ رپورٹس ماہانہ تک لے جانے کا ہدف رکھتی ہے۔ PhotoDNA کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
اردو نیوز سے گفتگو میں این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے تصدیق کی کہ ایجنسی Katalyst کے ساتھ ساتھ PhotoDNA ٹیکنالوجی بھی استعمال کر رہی ہے۔
مائیکروسوفٹ کی سرکاری وضاحت کے مطابق PhotoDNA ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو پہلے سے شناخت شدہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تصاویر کے ڈیجیٹل فنگر پرنٹس، جنہیں ہیش (Hash) کہا جاتا ہے تیار کرتی ہے۔
اس کے بعد کسی تصویر کے ڈیجیٹل فنگر پرنٹ کا معلوم تصاویر کے فنگر پرنٹس سے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ پہلے سے شناخت شدہ غیر قانونی مواد کی کاپیز تلاش کرنے میں مدد ملے۔
’فوٹو ڈی این اے‘ کا بنیادی مقصد بچوں کے استحصال سے متعلق شناخت شدہ تصاویر کی کاپیز کی نشان دہی میں مدد فراہم کرنا ہے (فائل فوٹو: پِکسابے)
مائیکروسافٹ کے مطابق اس کا بنیادی مقصد بچوں کے استحصال سے متعلق پہلے سے شناخت شدہ تصاویر کی کاپیز کی نشان دہی میں مدد فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں بروقت بلاک کیا جا سکے۔ ایک سال میں 10 لاکھ الرٹس یا لِنکس موصول ہونے کا دعویٰ
عاطف امیر نے اردو نیوز کو بتایا کہ این سی سی آئی اے کا خودکار نظام اس وقت بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد پر مرکوز ہے۔
ان کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران اس نظام کے ذریعے ایجنسی کو قریباً 10 لاکھ الرٹس یا لِنکس موصول ہوئے جن پر کام کیا گیا اور کارروائیاں بھی ہوئیں۔
عاطف امیر کا کہنا تھا کہ ایجنسی کا ہدف محض مواد کی نشان دہی کرنا نہیں بلکہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو بچوں کو بلیک میل کرتے ہیں یا ان کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔
عاطف امیر کے مطابق انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور فیس بُک سمیت سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی نشان دہی کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس خودکار نظام کا دائرہ کار مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ کیا این سی سی آئی اے ہر پاکستانی کا موبائل فون سکین کر رہی ہے؟
عاطف امیر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’این سی سی آئی اے سب کا موبائل فون سکین نہیں کر رہی اور نہ یہ اس ایجنسی کا کام ہے۔‘
’ہمارا فوکس چائلڈ پورنوگرافی پر ہے۔ جس موبائل میں چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق مواد ہے اور وہ صارف اسے استعمال کرتا ہے یا آگے پھیلاتا ہے وہ ہمارے شکنجے میں خودکار نظام کے تحت آئے گا۔‘
ان کے مطابق ’سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بچوں کے استحصال سے متعلق مواد کی نشان دہی کے لیے خودکار نظام استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
’تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شہری کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز، پیغامات اور ذاتی گفتگو کی مسلسل جانچ کی جا رہی ہے۔‘
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے لاہور زون عاطف امیر نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ایجنسی کا ہدف وہ ملزمان ہیں جو بچوں کے استحصال پر مبنی مواد کا باقاعدہ ’کام‘ کرتے ہیں۔