175 ممالک میں تقریباً 9 ہزار منصوبے: سعودی عرب کی انسانی ہمدردی کے لیے امداد 145 ارب ڈالر سے متجاوز
جمعرات 20 اگست 2026 12:52
مملکت کا شمار دنیا کے بڑے عطیہ دہندگان میں ہوتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
19 اگست کو منائے جانے والے انسانیت سے ہمدردی کے عالمی دن (ورلڈ ہیومنٹیرین ڈے) کے موقع پر، سعودی عرب اپنے اس انسان دوست سفر کی یاد تازہ کر رہا ہے جو اس کے قیام سے اب تک جاری ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایسی پی اے) کے مطابق اس سفر کے تحت سرحدوں کی قید سے بالاتر ہو کر دنیا بھر کے 175 ممالک میں آٹھ ہزار 997 سے زیادہ منصوبوں کے ذریعے 145 ارب ڈالر سے زیادہ رقم فراہم کی گئی ہے تاکہ مشکل ترین حالات میں گھِرے لوگوں کی مدد کی جا سکے۔
اس طریقۂ کار کے ساتھ، مملکت کا شمار دنیا کے بڑے عطیہ دہندگان میں ہوتا رہتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب میں انسانی ہمدردی کا کام کوئی عارضی اقدام نہیں بلکہ ایک مستحکم قدر ہے جس کے اثرات ہر برِ اعظم تک پہنچے ہیں۔
یہ عالمی موجودگی انسانی اور امدادی کوششوں کو سعودی عرب کی مدبرانہ قیادت کی جانب سے ملنے والی سرپرستی اور توجہ کی عکاسی کرتی ہے، جس نے بین الاقوامی امدادی منظر نامے میں مملکت کے مقام کو مزید بلند کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے فائنینشل ٹریکنگ سروس کے مطابق، سعودی عرب سال 2025 کے دوران انسانی اور امدادی عطیات دینے والے ممالک میں عالمی سطح پر دوسرے اور عرب دنیا میں پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ وہ یمن کے لیے انسانی امداد فراہم کرنے والے تمام ممالک میں پہلے نمبر پر رہا جس نے یمن کو ملنے والی کل امداد کا 49.3 فیصد فراہم کیا۔

یہ کامیابی ان گنت عطیات کے اس طویل ریکارڈ کا حصہ ہے جس نے مملکت کو بحرانوں سے نمٹنے اور متاثرین کے دکھوں کو کم کرنے میں ایک فعال اور اہم شریک بنا دیا ہے۔
اسی سوچ کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے، خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی ہدایات پر 13 مئی 2013 کو سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف سینٹر) کا قیام عمل میں لایا گیا۔
یہ سینٹر ایک سرکردہ انسانی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں ضرورت مندوں اور قدرتی آفت سے متاثرہ لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے وقف ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے، اس سینٹر نے بغیر کسی تفریق کے کروڑوں مستحقین کے فائدے کے لیے 113 ممالک میں آٹھ ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے چار ہزار 425 سے زیادہ منصوبے مکمل کیے ہیں۔

ان سہولیات سے مستفید ہونے والے ممالک میں یمن سب سے آگے ہے جہاں کے ایس ریلیف نے 4.785 ارب ڈالر سے زائد لاگت کے 1219 انسانی اور امدادی منصوبے مکمل کیے ہیں۔
غزہ میں کے ایس ریلیف ایک جامع مرکزی کچن چلا رہا ہے جو بے گھر اور متاثرہ خاندانوں کے لیے روزانہ 24 ہزار گرم کھانا تیار کرتا ہے۔
اس نے متعدد تعلیمی اور ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے ہیں اور ایک فضائی اور سمندری پل قائم کیا ہے جس کے ذریعے اب تک 84 طیاروں اور آٹھ بحری جہازوں کے ذریعے سات ہزار 750 ٹن سے زائد خوراک، ادویات اور پناہ گاہ کا سامان پہنچایا جا چکا ہے۔

شام میں کے ایس ریلیف نے 584 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے 523 منصوبے مکمل کیے۔ پاکستان میں 228 ملین ڈالر سے زائد کی لاگت کے 353 منصوبے، سوڈان میں میں 192 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے 279 منصوبے اور لبنان میں 92 ملین ڈالر سے زائد کی لاگت کے 73 منصوبے مکمل کیے گئے۔ ان تمام منصوبوں میں بنیادی امداد کے مختلف شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔
بحران کا شکار علاقوں میں پہنچائی جانے والی امداد سے لے کر انسانی جانیں بچانے والے طبی پروگراموں اور اپنے تجربے کے ذریعے ضرورت مندوں کی خدمت کرنے والے رضا کاروں تک، سعودی عرب کے انسانی امداد کے اس پورے نظام نے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس میں انسان اور اس کا وقار ہمیشہ اس کی سخاوت کا اصل مرکز رہتا ہے۔
